“یوکرینی بچوں کے اغوا کے الزامات — زلنسکی اور مارک کارنی کا فوری کارروائی کا مطالبہ”

کی‏یف / اوٹاوا(نامہ نگار+رائٹرز)یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زلنسکی اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ روس نے یوکرینی بچوں کو اغوا کیا ہے اور انہیں زبردستی روسی علاقوں میں منتقل کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کی واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور متعلقہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یوکرین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ روسی فورسز اور مقامی انتظامیوں نے متعدد شہروں اور قصبوں سے سینکڑوں بچوں کو والدین سے جدا کیا اور انہیں روسی علاقوں میں منتقل کیا ہے، جہاں ان کی شناخت اور رہائش روابط محدود ہیں۔ متاثرہ خاندان شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کی موجودگی یا حالت کے بارے میں ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

صدر زلنسکی نے بیان کیا کہ یہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی مشروطیت (international humanitarian law) اور معاہدات کے تحت یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ایسی مداخلت کریں کہ بچوں کی واپسی ممکن ہو اور ان کی حفاظت جاری رہے۔

مارک کارنی نے بھی اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا، کہا کہ یوکرینی بچوں کا اغوا نہ صرف یوکرین کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی عالمی سطح پر واضح پامالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اغوا میں ملوث افراد کو انصاف کے سامنے لایا جائے اور بچوں کو ان کے گھروں واپس لایا جائے۔

ڈپلومیٹک فشار اور بین الاقوامی اتحاد”
زلنسکی اور کارنی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے روس پر فوری واپسی کا دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کوآرڈینیٹڈ کوششوں، ڈیٹا شیئرنگ، اور عالمی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔

“ریسرچ مطالعات اور تحقیقات”
یو ایس معاون تحقیقات نے 210 سے زائد مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں یوکرینی بچوں کو فوجی تربیت، ڈرون تیاری اور تعلیمی پروگراموں کے تحت رکھا گیا۔ ایک رپورٹ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر کے زیرِ کنٹرول طیاروں نے بچوں کو اغوا کر کے روس منتقل کیا اور ان کی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

“واپسی کی مہمات”
یوکرین نے “Bring Kids Back UA” مہم کے تحت کچھ بچوں کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے۔ حالیہ اطلاع کے مطابق، 12 بچے روس سے واپس لائے گئے ہیں۔ مزید 11 بچے بھی روسی زیرِ قبضہ علاقوں سے واپس آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، 8 بچے جو کریمیا میں علیحدہ کیے گئے تھے واپس پہنچائے گئے۔

“اقوامِ بین الاقوامی جرائم اور قانونی کاروائی”
مارچ 2023 میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے ولادیمیر پیوٹن اور روسی کمشنر برائے حقوقِ اطفال ماریا لوووا-بیلووا کے خلاف بچوں کی غیر قانونی منتقلی کے الزام پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ روس نے ان الزامات کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ بچوں کو اِس عمل کا حصہ بنا کر روس منتقل کرنا “رضاکارانہ نقل و حرکت” کے طور پر کیا گیا ہے۔

“ماہرین کی رائے اور تشویش”
تنظیمیں اور حقوقِ اطفال کی مہمات دعویٰ کرتی ہیں کہ اغوا کیے گئے بچوں کو نفسیاتی صدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہیں روسی شناخت اپنانے پر مجبور کیا گیا، اور وہ اپنے خاندانوں سے منقطع ہوئے ہیں۔ یہ کیسز صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ مستقبل نسل کی ثقافتی شناخت اور قومی بقاء کا معاملہ ہیں۔

“زلنسکی و کارنی نے ذیل نکات پر زور دیا ہے”
فوری واپسی: روسی حکومت کو فوری طور پر ان یوکرینی بچوں کو واپس کرنا چاہیے۔
بچوں کی شناخت و نگرانی: بین الاقوامی تنظیمیں بچوں کی شناخت اور رہائش کا نظام بنائیں اور نگرانی کریں۔
قانونی چارہ جوئی: اغوا میں ملوث اہلکاروں اور منتظمین کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابدہ بنائیں۔
عالمی یکجہتی: تمام ممالک اور تنظیمیں اس معاملے کو نظرانداز نہ کریں، بلکہ اس پر مشترکہ موقف رکھیں۔
پُرامن مذاکرات اور امن کا جز: بچوں کی واپسی کو امن معاہدوں کا لازمی جز بنایا جائے۔

زلنسکی اور کارنی کا موقف ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی تو یہ نہ صرف اغوا شدہ بچوں کے حق میں ظلم ہوگا بلکہ عالمی انسانی حقوق کے نظام اور امن و انصاف کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں