یوکرین کا یومِ آزادی: روس پر ڈرون حملے، ایٹمی بجلی گھر میں آگ لگ گئی

کیف(اے ایف پی)یوکرین نے یومِ آزادی کے موقع پر روسی علاقوں پر ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔مغربی روس کے کورسک ایٹمی بجلی گھر پر ڈرون ٹکرانے سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان یا تابکاری خطرہ نہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرونز کو محاذِ جنگ سے دور شہروں میں بھی نشانہ بنایا گیا، سینٹ پیٹرزبرگ اور اُست-لوگا بندرگاہ پر بھی ڈرون مار گرائے گئے، جہاں توانائی کمپنی کے فیول ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔

یوکرین کی حکمتِ عملی: روسی تیل کے ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر جنگی مالی وسائل کو کمزور کرنا۔

ان حملوں کے بعد روس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یوکرین کے مطابق روس نے ایک بیلسٹک میزائل اور 72 ایرانی ساختہ ڈرونز داغے، جن میں سے 48 کو مار گرایا گیا۔دنیپروپیٹروسک میں ایک روسی ڈرون حملے سے 47 سالہ خاتون ہلاک ہوگئی۔

صدر زیلنسکی نے کہا”یوکرین کوئی مظلوم نہیں، یہ ایک لڑاکا ملک ہے۔”انہوں نے زور دیا کہ یوکرین نے اپنی آزادی محفوظ کر لی ہے اور شکست نہیں کھائے گا۔یومِ آزادی کی تقریبات میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی شریک ہوئے، جبکہ ٹرمپ، شی جن پنگ، بادشاہ چارلس اور پوپ سمیت عالمی رہنماؤں نے یوکرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

روس اس وقت یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں 2014 میں ضم کیا گیا کریمیا بھی شامل ہے۔جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا اور مشرقی و جنوبی یوکرین کو تباہ کر دیا ہے۔روسی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا: پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں