واشنگٹن (رائٹرز) اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے پیر کو امریکی مسودہ قرارداد منظور کی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتی ہے اور فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کو منظور کرتی ہے۔
اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروپ حماس نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس میں دو سالہ جنگ کے بعد جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کو عبوری حکومتی ادارے کو قانونی جواز فراہم کرنے اور وہ ممالک مطمئن کرنے کیلئےاہم قرار دیا جا رہا ہے جو غزہ میں فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ٹرمپ کے زیر قیادت “بورڈ آف پیس” میں حصہ لے سکتے ہیں، جو غزہ کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی نگرانی کرے گا۔ یہ بین الاقوامی استحکام فورس کو بھی مجاز قرار دیتی ہے جو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے عمل کی نگرانی کریگی، جس میں ہتھیار ہٹانا اور فوجی ڈھانچے تباہ کرنا شامل ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ہتھیار نہیں ہٹائیگی اور اسرائیل کیخلاف اپنی لڑائی کو جائز مزاحمت قرار دیا، جس سے اس گروپ کو قرارداد کے تحت مجاز بین الاقوامی فورس کے ساتھ ٹکراؤ کا امکان ہے۔
یو ایس کے اقوام متحدہ میں سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ قرارداد فلسطینی خود ارادیت کیلئےممکنہ راستہ پیش کرتی ہے اور “راکٹوں کی جگہ زیتون کی شاخیں آئیں گی”۔
روسی اور چینی سفیروں نے قرارداد پر حق رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور شکایت کی کہ یہ قرارداد اقوام متحدہ کیلئےغزہ کے مستقبل میں واضح کردار نہیں دیتی۔ روسی سفیر واسیلی نبیزیہ نے کہا کہ کونسل واشنگٹن کی پیشکشوں کی بنیاد پر غزہ پر مکمل کنٹرول “بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس” کو دے رہی ہے، جس کی تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے نفاذ میں حصہ لینے کیلئےتیار ہے۔ سفارتکاروں کے مطابق اتھارٹی کی حمایت نے روسی ویٹو کو روکا۔
صدر ٹرمپ نے ووٹ کو “تاریخی لمحے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے اراکین اور دیگر اہم اعلانات آنے والے ہفتوں میں کیے جائیں گے۔
قرارداد اسرائیل میں متنازع رہی کیونکہ اس میں فلسطینی ریاست کے مستقبل کے امکانات کا ذکر ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ “شرائط ممکنہ طور پر فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کیلئےایک قابل اعتماد راستہ فراہم کر سکتی ہیں” جب اتھارٹی اصلاحاتی پروگرام مکمل کرے اور غزہ کی تعمیر نو آگے بڑھے۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے مخالف ہے اور غزہ کو غیر فوجی بنانے کیلئے”آسان یا سخت” طریقہ اختیار کریگا۔
“پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، غزہ میں خونریزی روکنے اور شہریوں کی حفاظت پر زور دیا”
پاکستان نے کہا کہ اس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تاکہ لڑائی روکی جا سکے، شہریوں کی حفاظت ہو، اور جنگ بندی کو مضبوط کیا جا سکے، جو انسانی امداد، تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء کیلئےراستہ کھولے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے وضاحت کی کہ اسلام آباد نے اس منصوبے کی حمایت ایک مقصد کے تحت کی: “خونریزی کو روکنا، معصوم فلسطینیوں کی جانیں بچانا، بشمول خواتین اور بچوں، جنگ بندی برقرار رکھنا، اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلاء کو یقینی بنانا۔”

