ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا، بہرحال حاضر ہوں اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں کی روایت کے مطابق اپنی تکلیف اور پریشانی کو نظرانداز کرتے ہوئے حالات حاضرہ ہی کی بات کرتے ہیں،قارئین! جانتے ہیں کہ میں اکثر ان فرامین اور احادیث کے حوالے سے کچھ عرض کرتا رہتا ہوں جن کا تعلق قیامت کے برپا ہونے اور اس سے پہلے کے حالات سے ہے۔اِس سلسلے میں فکر مند بھی ہوں کہ حالات بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ہم مسلمانوں نے ان ہدایات اور نشانیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جو بہت واضح ہیں اور موجودہ حالات اِسی کے مطابق پیش آ رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں، میں نے درد مند، دانشور خورشید ندیم کا کالم ایک سے زیادہ بار پڑھا، اس میں انہوں نے اس حوالے سے لکھنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ میں سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے ان باتوں کو دہرانا تو نہیں چاہتا تاہم یہ عرض ضرور کروںگا کہ قرآن حکیم پر غور کریں تو گذری قوموں کی نافرمانیوں کے ذکر آتے ہیں،انہی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی نافرمانی اور پھر عذاب کا ذکر ہے، چنانچہ اللہ نے اس نافرمانی اور مسلسل انکار کے بعد ہی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کیا۔ صاحب ِ علم اور قرآن پڑھنے والے جانتے ہیں کہ یہ عذاب پانی کا تھا۔ حضرت نوع علیہ السلام کو ہدایت اور اجازت دی گئی کہ وہ ایک بڑی کشتی تیار کر لیں،اس میں ہر جاندار کا جوڑا رکھ لیا جائے۔ آپ علیہ السلام نے ہدایت پر پوری طرح عمل کیا،(یاد رہے کہ زمانہ حال میںحضرت نوع علیہ السلام کی یہ اصل کشتی دریافت بھی ہو چکی ہے) یہ ذکر بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک فرزند کو بھی اپنے ساتھ آنے کے لئے کہا،لیکن وہ نہ مانا اور پھر اللہ نے پانی کا عذاب نازل کیا،جس سے اس وقت کشتی سے باہر زندہ حیات ختم کر دی گئی، تاثر یہ ملتا ہے کہ اللہ نے حضرت نوع علیہ السلام کی اس کشتی میں جاندار جوڑوں کی موجودگی اور بچ جانے کے بعد ہی پھر سے دنیا آباد کی۔بہرحال ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ نبی آخرالزماں، رسولِ مقبول، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سابقہ نافرمان قوموں پر عذابوں کے حوالے سے ہی سے اللہ سے عرض کی کہ ان کی اُمت کو ایسے عذابوں سے محفوظ رکھا جائے۔
میرے بزرگ اور رہنما علامہ ابو الحسناتؒ مفسر قرآن بتایا کرتے تھے کہ قرآن حکیم کے مطابق جب بھی کسی قوم نے اللہ کے پیغمبر کی تعلیم اور احکام الٰہی سے گریز کیا تو ان پر عذاب نازل ہوئے جو مختلف نوعیت کے تھے۔ بنی اسرائیل کے حوالے سے علامہؒ نے تائید کی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ اور اللہ سے ان قبیلے کی خواہشات پوری کروانے کے باوجود یہ نافرمانی سے باز نہیں آئے حتیٰ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قوم کو دُعا اور اللہ کی رحمت سے فرعون سے بچایا، دریا میں سے راستہ ملا اور یہ سب بخیریت وعافیت گذر گئے جبکہ فرعون اور اس کی سپاہ غرق ہو گئی،اس کے باوجود بنی اسرائیل نے نافرمانی کی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے کہ اہل کتاب یہودی کم ہو گئے جبکہ سامری والی سونے کی گائے کے پجاری صہیونی تعداد ہی میں نہیں طاقت میں بھی بڑھ گئے ہیں اور ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔
قارئین! اجازت دیجئے کہ میں ایک بار پھر ان تمام ہدایات اور فرامین کا ذکر کروں جو دورِ حاضر سے متعلق ہیں۔ فرامین نبویؐ کے مطابق ریت نے سیال سونا بھی اُگلا، غریب امیر ہوگئے، آسمانوں کو چھوتی عمارتیں بھی بن گئیں، دولت کی ریل پیل نے مسلمانوں کو غفلت کا شکار کر دیا اور پیش گوئی پوری ہوئی کہ دولت کے انبار تو ہوں گے، لیکن دِل ایمان کی روشنی سے خالی ہوں گے۔ قارئین! ہم سب گواہ ہیں اور خود سے بھی سوال کریں تو یہی سب نظر آتا ہے اور جب یہ سب ویسا ہی ہے تو پھر حالات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے پیغام سے روگردانی سے حالات میں تبدیلی تو ہو گی،آج سب پر ظاہر ہے کہ ہم عمومی زندگی میں کس طرف رواںدواں ہیں اور وہ کون سا عیب اور برائی ہے جو مسلمانوں میں نہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کاروبار، دیانت اور امانت کے حوالے سے غیر مسلموں کی مثالیں دینا پڑتی ہیں۔میں نے ایک سے زیادہ بار حضرت علامہ ابو الحسناتؒ سے پوچھا کہ حضورؐ نے جو بھی فرمایا وہ پورا تو ہو گا اِس لئے پریشانی کس بات کی۔ انہوں نے ہمیشہ پیار بھری ڈانٹ سے منع کیا کہ ایسی باتیں نہ کروں، ایک مکمل وعظ میںحضرت علامہ ؒ نے واضح کیا کہ حضورؐ کی ان احادیث اور فرامین کو جو قیامت سے متعلق اس سے پہلے کے حالات کے بارے میں ہیں،ہمیں آگاہی اور وارننگ کے طور پر دیکھنا اور لینا چاہئے اور کوشش کرنا چاہئے،جو فرض بھی ہے کہ یہ سب کام نہ کریں جن کے باعث بُرے حالات سے واسطہ ہو،اس لئے توبہ ہی بہتر عمل ہے۔
میں اپنے محترم دانشور کی اس بات سے بھی مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والے حالات اور پریشانیوں کو عذاب سے تعبیر کرنا دشوار ہے اور اسی طرح اس کو امتحان کہنا بھی مشکل ہے تاہم یہ سامنے کی بات ہے کہ آسمان سے پانی رحمت کی جگہ زحمت بن گیا اور ملک کے ہر حصے میں جانی و مالی نقصان ہوا اور ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں توبہ کرنا تو بنتا ہے اس سے انکار نہیں کہ سائنس ایک علم ہے اور علم ہی کے لئے ہدایت بھی ہے۔اگر اس علم کی رو سے اب نئی نئی اصطلاعات سامنے آ رہی ہیں تو اس سے انکار نہیں تاہم غور کرنے کی بات ہے کہ حالات کی اس تبدیلی سے ہم نے کیا سبق حاصل کیا۔ یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ یہ درست کہ اس فطری آفت کے سامنے ہم انسان اپنی بساط کے مطابق نبرد آزما ہیں اور اب مختلف نوعیت کی خرابیوں،برائیوں کی نشاندہی کرتے چلے جا رہے ہیں،افسوس تو یہ ہے کہ ان غفلتوں اور ناجائز مراعات اور دیگر برائیوں کا ذکر بھی ہوتا ہے، لیکن ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جاتا، جو حالات ملک میں ہیں انہی کے مطابق غلطیوں اور ناجائز کارروائیوں کا الزام بھی ایک دوسرے پر لگایا جا رہا ہے۔
یہ درست کہ سائنسی علوم ہی کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلیوں اور نئے حالات و واقعات کی روشنی میں کلائوڈ برسٹ (بادلوں کا پھٹنا) جیسی صورت بھی سامنے آئی ہے جو تباہی اور بربادی ہوئی اور ابھی سامنا بھی ہے،اس کے حوالے سے بھی حالات اور ذمہ دار محکموں کا ذکر ہو رہا ہے اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پانی کا راستہ تجاوزات سے روکا گیا۔لالچ کیا اور ایسے مقامات پر عمارتیں/ہوٹل وغیرہ بنائے گئے، جنہوں نے تیز بارش کو برداشت تو کیا کرنا تھا ا لٹا نقصان کا باعث بن گئیں۔ یہ سب پہلی بار سامنے نہیں آیا، نہ ہی پہاڑوں کے پتھروں کا کاٹنا، درختوں کی شامت اور شجرکاری کے نام پر دھوکے کا اب علم ہوا ہے۔ یہ سب ہوتا چلا آ رہا،2022ء کے سیلاب میں بھی یہ سب سامنے آیا لیکن تین سال بعد معلوم ہوا کہ کسی رکاوٹ کا سدباب نہیں کیا گیا۔ میں آج کوہ سلمان (ڈیرہ غازی خان) کی مثال دیتا ہوں،ہر سیلاب ہی نہیں ہر برسات میں اس پہاڑ پر گرنے اور اس سے بہنے والا پانی رود کوہیوں میں سیلاب اور نقصان کا باعث بنتا اور ہر بار تجاوزات،رکاوٹوں کا ذکر ہوتا، مداوا نہیں ہوا۔
بات کو زیادہ بڑھانے اور پھیلانے کی ضرورت نہیں، میں تو عرض کروں گا کہ یہ عذاب اور آزمائش نہیں تو انتباہ ہر صورت ہے،ہمیں غور کرنا، آپسی اختلافات کو بھلانا ہو گا، جھوٹ ترک کرنا،ناانصافی کا خاتمہ کرنا، ہر قسم کی بددیانتی سے توبہ اور اجتماعی اعتراف کے بعد نیک عمل سے آگے بڑھنا ہو گا،اب ضروری ہے کہ ہم کھربوں روپے کے منصوبوں کی فکر چھوڑ کر پہلے وسائل ان آفات سماوی سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے پر لگائیں، باتیں چھوڑ کر عمل کریں، ہم سب ایک ہیں کی گردان کو حقیقت کا روپ دیں اور ملک سنواریں،ورنہ۔۔۔؟؟؟

