استنبول / کراچی (خصوصی رپورٹ)ترک ڈرامے “ارطغرل غازی” کے مرکزی اداکار انجین التان دوزیتان نے پاکستان میں اپنے دورے کو “یادگار اور شاندار” قرار دیتے ہوئے کئی دلچسپ اور جذباتی واقعات شیئر کیے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان کے لوگوں کی محبت، مقبولیت کی شدت، اور کووڈ 19 کے دوران کے تجربات پر روشنی ڈالی۔

عوامی پذیرائی
انجین التان نے بتایا کہ جب وہ 2020 میں پاکستان کے دورے پر آئے، تو کراچی میں ان کا پرتپاک استقبال ہوا۔ ہوٹل میں قیام کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب 20 افراد اچانک ان کے کمرے میں داخل ہوگئے۔”میں تھوڑا پریشان ہوگیا، مگر وہ سب کہنے لگے: ہمیں پتا ہے یہ آپ کا کمرہ ہے، ہم صرف آپ سے محبت کرتے ہیں اور تصویر لینا چاہتے ہیں!”
کووڈ 19 کے دوران کا مشاہدہ
انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث لوگ خوفزدہ تھے، تو پاکستان میں لوگ اس معاملے کو اتنا سنجیدہ نہیں لے رہے تھے۔”میں نے کچھ لوگوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کووڈ تو ایک جھوٹ ہے۔ اس وقت مجھے لگا شاید وہ واقعی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔”
مسجد میں عوام کا جم غفیر
اداکار نے بتایا کہ کراچی کی ایک مشہور مسجد میں جب وہ امام صاحب سے بات چیت کر رہے تھے، تو اچانک خبر پھیل گئی اور 4 ہزار کے قریب افراد مسجد کے باہر جمع ہوگئے۔”وہاں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی، امام صاحب نے مجھے مسجد کے اندر لے جا کر محفوظ کیا بعد میں مقامی گارڈز آئےاور مجھے وہاں سے لے جایا گیا۔”
پاکستانیوں کی محبت
انجین التان نے کہا کہ پاکستانی عوام کی محبت اور جوش و خروش انہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔”یہ وہ لمحے ہیں جو میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ پاکستانیوں کا رویہ بے حد دوستانہ اور جذبے سے بھرپور تھا۔”
پس منظر
ترکیہ کی مشہور سیریز “Diriliş: Ertuğrul” کو پاکستان میں “ارطغرل غازی” کے نام سے اردو ترجمے کے ساتھ سرکاری چینل پی ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا۔ اس ڈرامے نے ناظرین کے دل جیت لیے، اور انجین التان کو پاکستان میں زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی آمد پر پاکستانی مداحوں نے ان کا شاندار خیرمقدم کیا، اور ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے لمبی قطاریں بھی لگیں۔
تجزیہ
انجین التان کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی تعلقات دو ملکوں کے درمیان سیاسی و سفارتی تعلقات سے زیادہ گہرے اور پائیدار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں ترک فنکاروں کے لیے محبت ایک ایسی مثال ہے جو دونوں قوموں کو ایک مضبوط ثقافتی بندھن میں باندھتی ہے۔

