یہ گنڈا پور کو کیا ہوا، نوٹس کون لے گا؟

آسمان سے برسنے والے پانی سے جو سیلابی کیفیت جاری ہے اور اب تک جو جانی اور مالی نقصان ہو چکا اس پر دُکھ تو ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم انسان جو خطا کے پتلے ہیں، اس سے کوئی اثر نہیں لے رہے،جن کے عزیز بچھڑ گئے، اللہ کو پیارے ہوئے اور جن شہریوں کے گھر،مال مویشی اور اراضی کو نقصان پہنچا وہ اور دیگر دُکھی ہیں،انہی حالات میں بلوچستان اور کے پی کے قبائلی علاقے میں دہشت گردی کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں، سکیورٹی فورسز کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملکی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، تمام تر دعوؤں کے باوجود معیشت سنبھلنے کے اثرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو پا رہے۔مافیاز اپنی جگہ سرگرم عمل ہیں، چینی کا حصول اپنی جگہ، سبزی دال اور فروٹ بھی استطاعت سے باہر ہیں۔

اِن تمام حالات میں عامی بھی یہ سوچتا ہے کہ ہم سب کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر توبہ کرنا اور آفات سماوی سے نبردآزما ہونا چاہئے کہ اتفاق میں برکت ہوتی ہے،اس سلسلے میں ہمارے ادارے کے صفحات گواہ ہیں کہ مسلسل ایک یقین کے ساتھ یہ درخواست کی جا رہی ہے کہ سیاسی اختلاف کو اختلاف رائے تک محدود رکھا جائے اور قومی امور پر اتفاق رائے سے اجتماعی فیصلے کئے جائیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا،اِس امر کے باوجود کہ مفاد ایک ہوں تو سب ایک ہیں اور مسئلہ ہو جائے تو پھر ”تو کون، میں کون“ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ابھی زیادہ وقت تو نہیں گذرا کہ خیبرپختونخوا سے ایک بالکل نئی روایت سامنے آئی اور تمام جماعتیں بشمول تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) مل کر طے شدہ فارمولے کے تحت سینیٹ کا الیکشن لڑا اور نتیجہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے فارمولے کے مطابق حاصل کیا اس پر تجزیہ کار حضرات نے تو یہ کہا کہ اگر سینیٹ کے انتخابی عمل کے لئے مذاکرات اور بات چیت ہو سکتی ہے تو سیاسی اختلافات طے کرنے اور ملکی مفاد کی خاطر مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔اس کا جواب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے جلد ہی دے دیا۔ بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کل جماعتی کانفرنس کے نام پر قومی جماعتوں کی شمولیت کے بغیر کانفرنس کو جرگہ قرار دے دیا اور دہشت گردوں کی حمایت میں بیانیہ بنا لیا۔انہوں نے تو واضح طور پر دہشت گردی کی حمایت والا رویہ اختیار کر لیا اور وفاق سے کہا کہ وہ ان کے صوبے میں مداخلت نہ کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، ہم اپنے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ اگر یہ علی امین گنڈا پور کی جگہ، کسی سنجیدہ فکر رہنما نے یہ سب کہا ہوتا تو اب تک فتوے جاری ہو گئے ہوتے۔ یہ تو علی امین گنڈا پور ہیں جن کے تمام عمل اب تک مشکوک قرار دیئے جا رہے ہیں۔وہ ہیں کہ بانی کا اعتماد رکھنے کے ساتھ اب تحریک انصاف کی باہر والی قیادت کا بھی بھروسہ لئے ہوئے ہیں۔

مجھے تو ان کے بیان پر تشویش ہوئی ہے کہ ماضی میں صوبائی حقوق کی بات کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا گنڈا پور صاحب نے تو حد پھلانگ دی ہے اور وفاق کو باقاعدہ چیلنج کر کے خود مختاری جیسی بات کہہ دی ہے اور ان کو جواب بھی نہیں دیا جا رہا، مصلحت ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ گنڈا پور کی پوری بات سے تو صوبائی حقوق کی نہیں بلکہ علیحدگی کی بُو آتی ہے خصوصاً خوارج کے حوالے سے انہوں نے جو موقف دہرایا اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کے پی کی موجودہ حکومت کی حمایت دہشت گردوں کو حاصل ہے۔ دوسری صورت میں علی امین گنڈا پور کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان تحریک طالبان خوارج کے ساتھ مل کر ”امارت اسلامیہ“ جسے پختونستان کہا جا سکتا ہے، بنانا چاہتے ہیں اور اگر نہیں تو خوارج کے حوالے سے ان کا موقف کیا اور قومی پالیسی سے الگ کیوں؟

خبروں ہی کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ایوان وزیراعظم ہاؤس میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جرگہ سے ملاقات کی اور ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے متعدد مراعات کا بھی اعلان کیا۔ میں تو اپنے طور پر کنفیوژ ہو گیا اور برادرم نصرت جاوید کا قائل ہو گیا ہوں کہ ملک میں سیاست ہی نہیں ہو رہی تو سیاست پر بات کیا کی جا سکتی ہے۔ سب مفادات کی فکر میں ہیں اور دوسری طرف ”را“کی کوشش رنگ لا رہی ہے اور دہشت گردی بڑھ گئی ہے خصوصاً بلوچستان میں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ”باغی“ عناصر شاید آخری لڑائی لڑ رہے ہیں،اس کے علاوہ غور طلب بات یہ ہے کہ خوارجیوں نے خود کش ڈرون بھی استعمال کیا، اطلاعات تو یہی ہیں کہ ان کو یہ ڈرون خصوصی طور پر مہیا کئے گئے ہیں ایسی صورت میں علی امین گنڈا پور کہہ رہے ہیں کہ وہ صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی صوبے میں وفاق کو مداخلت کرنے دیں گے یہ حد نہیں ہو گئی؟ اب تو تحریک انصاف کے سنجیدہ فکر اور سیاسی عمل میں یقین رکھنے والے حضرات کو غور کرنا ہو گا کہ یہ سب کیا ہے اور اس شخص کو بانی کی حمایت بھی حاصل ہے اور وہ برملا دعویٰ کرتا اور بیرسٹر گوہر خان تائید کرتے ہیں ایسے میں خود تحریک انصاف کے اندر جو حد بندی اور اختلاف کی صورت ہے تو اسے بھی زیر غور لانا چاہئے، ابھی تو سزاؤں کا عمل شروع ہوا، ان پر اعتراض بھی ہو رہے ہیں،لیکن گنڈا پور کی گفتگو سے تو عوام کو جو تاثر ملا ہے کہ جو ہوا وہ درست ہوا، اگرچہ کئی حضرات کے حوالے سے ہمارے جیسے لوگ بھی دُکھی ہوئے ہیں۔

آج بھی متعدد موضوع زیر غور تھے، خیال تھا کہ حالیہ پولیس مقابلوں اور لاہور کی ٹریفک اور ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی اور عوامی ڈھیٹ پن پر لکھوں گا لیکن علی امین گنڈا پور نے توجہ مبذول کرا لی ہے، ویسے بھی کئی ترقیاتی منصوبے اور ان پر عمل کے حوالے سے بھی متحرک وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کی آگاہی کے لئے عرض کرنا تھا، کم از کم لاہور کی حالت ِ کے بارے میں تو ان کو خود اندازہ ہونا چاہئے کہ ایک طرف بارشیں معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہم نے پورا لاہور کھود ڈالا ہے،اس پر ہم نے بجلی والی ٹرام بھی درآمد کر لی ہے جو کینال پر چلانا مقصود، ہم پرانے لاہور والے ویسے ہی پردیسی ہو کر دیہات میں بس رہے ہیں۔اس پر کیا عرض کروں، سوائے اس بات کے کہ جو جہاں ہے ٹھیک لگا ہوا ہے۔ ویسے یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ کام کرنے والے دیانتدار بہت مشکل میں ہیں اور نمبر ٹنگ اپنی کاریگری دکھاتے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو دیانتداری سے غور کرنا ہو گا، ورنہ کلچر تو بینگن اور بادشاہ کی ملازمت والا رائج پا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں