نیویارک (رائٹرز) ٹیسلا کی چیئرپرسن روبن ڈین ہولم نے پیر کے روز شیئر ہولڈرز کو لکھے گئے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایلون مسک کیلئے مجوزہ 10 کھرب ڈالر مالیت کے معاوضے کے پیکج کی منظوری نہ دی گئی تو وہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ٹیسلا چھوڑ سکتے ہیں۔
یہ انتباہ 6 نومبر کو ہونے والے ٹیسلا کے سالانہ اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹیسلا کے بورڈ کو طویل عرصے سے اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ شیئر ہولڈرز کے مفادات کا مؤثر تحفظ نہیں کر رہا، جبکہ گورننس ماہرین اور ایڈووکیسی گروپس نے ایلون مسک کے اثر و رسوخ اور بورڈ کی آزادی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
روبن ڈین ہولم نے اپنے خط میں لکھا کہ یہ مجوزہ کارکردگی پر مبنی منصوبہ ایلون مسک کو برقرار رکھنے اور انہیں مزید ساڑھے 7 سال تک ٹیسلا کی قیادت جاری رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ان کے مطابق، ایلون مسک کی قیادت ٹیسلا کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اگر انہیں مناسب ترغیب نہ دی گئی تو کمپنی ان کی توجہ، صلاحیت اور وژن سے محروم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ٹیسلا مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار ٹیکنالوجی (Autonomous Technology) میں عالمی رہنما بننے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے ایلون مسک کا کردار کلیدی ہے۔
پیکج کی تفصیلات کے مطابق، ایلون مسک کو 12 مراحل میں شیئر آپشنز دیے جائیں گے جو کارکردگی کے بلند اہداف سے منسلک ہوں گے، جن میں 85 کھرب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرنا اور خودکار ڈرائیونگ و روبوٹکس میں نمایاں کامیابیاں شامل ہیں۔
روبن ڈین ہولم نے اس پیکج کو ایلون مسک کے مفادات کو شیئر ہولڈرز کی قدر اور طویل مدتی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے ضروری قرار دیا اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ ایلون مسک کے ساتھ طویل عرصے سے کام کرنے والے ڈائریکٹرز کو دوبارہ منتخب کریں۔
خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکی ریاست ڈیلاویئر کی عدالت نے 2018 میں ایلون مسک کو دیا گیا معاوضہ پیکج منسوخ کر دیا تھا، یہ قرار دیتے ہوئے کہ یہ غیر مناسب طور پر منظور کیا گیا تھا اور ایسے ڈائریکٹرز نے مذاکرات کیے تھے جو مکمل طور پر آزاد نہیں تھے۔

