15 دن کے اندر غیر قانونی اسلحہ جمع کروانا لازم ہوگا:ڈاکٹر عثمان انور

غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال سزائیں، 10 سے 30 لاکھ روپے
تک جرمانے مقرر کئے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن کے مطابق صوبہ کو اسلحہ سے پاک کرنے کے سلسلے میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سنٹرل پولیس آفس لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمٰن اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں جن کی خصوصی ہدایات پر سی سی ڈی اور آر ایم پی کا قیام عمل میں آیا اور پولیس کو درکار سہولیات فراہم کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب سرینڈر آف اللیگل آرمز ایکٹ 2025 متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں تمام غیر قانونی اسلحہ 15 دن کے اندر جمع کروانا لازم ہو گا جبکہ صوبہ بھر سے ڈالا کلچر کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ 10 لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ اسلحہ کی از سرِ نو جانچ پڑتال کی جائے گی اورصوبہ بھر میں سکروٹنی اینڈ سرچ آپریشنز بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی دشمنیوں یا اپنی حفاظت کی آڑ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کی جائیں گی جبکہ غیرقانونی اسلحہ کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر شہری کو لازماً اپنا غیرقانونی اسلحہ مقررہ مدت میں جمع کروانا پڑے گا۔ سی سی ڈی صوبہ بھر کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے جامع اقدامات کرے گی اور غیر قانونی اسلحہ قانون کے مطابق سی سی ڈی، متعلقہ تھانوں اور مقرر کردہ مراکز پر جمع کروایا جا سکے گا۔برآمد شدہ غیر قانونی اسلحہ سی سی ڈی کی نگرانی میں تلف کیا جائے گا جبکہ صوبائی بارڈر چیک پوسٹوں پراسلحہ کی تلاش کے لیے سکینرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ اسلحہ کی ترسیل کو روکا جا سکے۔آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کیلئے گارڈز کی بھرتی کا عمل سخت کیا جا رہا ہے، انہیں پولیس کی نگرانی میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور لائسنسز ریگولیٹ کیے جارہے ہیں جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث شوٹرز کیخلاف سخت کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ گارڈز کیلئے پینک بٹن سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جو پولیس ایمرجنسی 15 سے منسلک ہو گا۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ 2500 سے زائد اغوا اور گمشدہ بچوں کو ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی کی مدد سے گھر واپس پہنچایا جا چکا ہے۔سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمٰن نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال تک سزائیں اور 10 سے 30 لاکھ روپے تک جرمانے عائد کیے جائیں گے جبکہ یہ جرم ناقابلِ ضمانت تصور ہوگا۔

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام سے صوبے میں کرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قتل کے جرائم میں 33 فیصد، گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 62 فیصد، گاڑیاں چوری میں 51 فیصد، ڈکیتی میں 70 فیصدجبکہ راہزنی میں 71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناجائز اسلحہ کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اگلے چار ماہ میں اسلحہ کے زور پر ہونے والے جرائم میں 75 فیصد تک کمی لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔مزید بتایا کہ صوبے بھر میں قتل کی وارداتیں 1300 سے کم ہو کر 800 رہ گئی ہیں جبکہ مجموعی طور پر کرائم ریٹ میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں