2 ماہ سے 5 سال تک جاری رہنے والی جنگ کیلئے تیاری رکھنا ہوگی: بھارتی وزیر دفاع

نئی دہلی(ایجنسیاں) — بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی نوعیت اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ بھارت کو ایسی کسی بھی جنگ کیلئےتیار رہنا ہوگا جو دو ماہ سے لے کر پانچ سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف فوجی طاقت اور ہتھیاروں کا ذخیرہ کافی نہیں، بلکہ مستقبل کی جنگوں میں ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

“بدلتی ہوئی جنگ کا منظرنامہ”
مدھیا پردیش کے شہر مہو میں فوجی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نے کہا’’آج کے دور میں جنگیں اچانک اور غیر متوقع ہوتی ہیں، اسلئےیہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ کوئی جنگ کب شروع ہوگی اور کب ختم۔ ہمیں ہر صورتحال کیلئے تیار رہنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو ایسی دفاعی صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی جو طویل جنگ کے بوجھ کو برداشت کر سکیں، چاہے جنگ چند ماہ چلے یا کئی برس۔

“روس-یوکرین جنگ کی مثال”
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 2022 میں شروع ہونے والی روس-یوکرین جنگ ابتدائی طور پر روایتی ہتھیاروں پر مبنی تھی، لیکن چند برسوں میں اس کی نوعیت بالکل بدل گئی۔ اب یہ جنگ ڈرونز، سینسر پر مبنی ہتھیاروں اور پریسژن گائیڈڈ گولہ بارود پر منتقل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی واضح کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں صرف ٹینک اور توپیں فیصلہ کن نہیں ہوں گی بلکہ ٹیکنالوجی کے نئے ہتھیار معرکہ طے کریں گے۔

“سائبر وارفیئر اور انٹیلی جنس کی اہمیت”
بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ جنگ میں کامیابی صرف فوجیوں کی تعداد پر نہیں بلکہ سائبر وارفیئر، حقیقی وقت کی انٹیلی جنس، مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ ڈرونز پر بھی منحصر ہے۔’’سرپرائز کا عنصر سب سے اہم ہے، یہ ہمیشہ غیر متوقع ہوتا ہے اور دشمن کو الجھا دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر جنگ کے نتائج پر پڑتا ہے۔‘‘

“آپریشن سندور کا حوالہ”
راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو بھارت کی خود انحصاری اور مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کا اہم تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس آپریشن نے ثابت کیا کہ مقامی پلیٹ فارمز، آلات اور ہتھیار کس طرح فیصلہ کن کامیابی دلا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور سے یہ سبق ملا ہے کہ مستقبل میں دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ معلوماتی اور سائبر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو اب ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی نظاموں پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی تاکہ وہ نہ صرف آج بلکہ آئندہ کئی برسوں تک جاری رہنے والے کسی بھی ممکنہ تنازع میں بھرپور دفاع کر سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں