واشنگٹن(غیرملکی میڈیا، سی این این، این بی سی نیوز، فاکس نیوز، اے بی سی نیوز، ورلڈ ٹائمز انسٹی ٹیوٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات کی تفصیلات ایک بار پھر سامنے آ گئی ہیں، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ “میرے خیال میں اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے”۔ یہ بیان ٹرمپ نے مارچ 2016 میں امریکی چینل سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں اس وقت دیا تھا جب اینکر اینڈرسن کوپر نے ان سے اسلام اور مغرب کے تعلقات پر سوال کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر 2015 میں ٹرمپ نے این بی سی نیوز اور اے بی سی نیوز پر گفتگو کے دوران مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جسے بعد ازاں مسلم بین قرار دیا گیا۔ اسی عرصے میں فاکس نیوز پر انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے بعض مساجد کو بند کرنے کے امکان کا بھی اظہار کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق 2016 کے دوران ٹرمپ نے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے خلاف امریکا کی مدد کرنی چاہیے، جبکہ بعض انٹرویوز میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ مسلمان مغربی اقدار اور قوانین کو قبول نہیں کرتے۔
ورلڈ ٹائمز انسٹی ٹیوٹ کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے تناظر میں سامنے آنے والی اس ٹائم لائن کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات امریکی سیاست میں مسلمانوں کے حوالے سے سخت پالیسیوں کی بنیاد بنے، جن پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مسلم ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ان بیانات نے نہ صرف امریکا میں مسلم کمیونٹی میں تشویش پیدا کی بلکہ عالمی سطح پر بھی اسلاموفوبیا کے رجحان کو تقویت ملی۔

