2025 ء۔۔۔ ایک خونی سال۔۔۔

زندگی کا ایک اور سال گزر گیا لیکن اس میں جتنا خون بہا۔یہ اس سال کی ابتدا پر کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ 2025ء پاکستان کے حوالے سے یقینا ایک خونی سال تھا۔ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی اس سال دوبارہ پوری طاقت سے واپس لوٹی ہے۔ پاکستان نے اس کا جواب بھرپور انداز میں دینے کی کوشش کی ہے۔ بارڈر پر ”گھس بیٹھیوں“ کو روکنے کے لئے سرحد پر پہرا سخت کیا گیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی ”کروانے والوں“کے ٹھکانوں پر افغانستان کے اندر بھی فضائی حملے کیے گئے میزائل بھی مارے گئے۔ حتی کہ کابل تک میں ان کی گونج سنائی دی۔ لیکن لگتا ہے کہ ہمارے دوست ملک بھارت کے ”نمک“میں کوئی ایسی بات ہے جو ہم 50سال کی میزبانی میں بھی ان افغانیوں کی ”خوراک“ میں شامل کرکے انہیں کھلا نہیں سکے۔ پوری دنیا میں آج پاکستان کے سبز پاسپورٹ کا نام پاکستانیوں سے زیادہ افغانیوں کی بدولت بدنام ہو رہا ہے اور یہ پاسپورٹ انہوں نے صرف چند ہزار روپے کی رشوت کے عوض حاصل کیے اور ان پاسپورٹوں، شناختی کارڈوں کی بنیاد پر وہ آج ”مستند پاکستانی“ ہیں۔

مستند اس لئے کہ ہم تو پیدائشی پاکستانی ہیں کہ پیدا ہی پاکستان میں ہوئے اور ان لوگوں نے تو اپنے اپ کو ”اپنے پیسے“کے زور پر خود کو پاکستانی منوایا ہے(بلکہ بنوایا ہے)۔ گزشتہ سال اتنا زیادہ خون بہا کہ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہا ہے۔ گزشتہ سال تقریبا چار ہزار افراد افغان سرحد پار سے کی جانے والی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔جو کہ 2024ء کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تعداد ہے۔ دہشت گردی کی اس تازہ لہر سے نبٹنے کے لئے پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جن میں 2ہزار کے لگ بھگ دہشت گرد مارے گئے۔دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ایک ہزار عام شہری شہید ہوئے۔

ان دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہونے والی کارروائیوں میں شہادت پانے والے پاکستانی فوج کے جوانوں اور افسروں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو ایک ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 ء کا سال شدت پسندوں کے لئے 2015ء کے بعد سب سے زیادہ خونی سال تھا اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کا 2014ء کے بعد سب سے زیادہ خون اس سال بہا۔ جبکہ پاکستان کے عام شہریوں کے لئے 2014ء کے بعد سب سے زیادہ خونی سال رہا۔ 2025ء میں 11سال بعد سب سے زیادہ شدت پسند حملے کیے گئے۔ گزشتہ ایک دہائی میں کسی ایک سال میں شہریوں کا اتنا جانی نقصان نہیں ہوا جتنا گزشتہ خونی سال میں ہوا،لہٰذا اسے دہائی کا سب سے خونی سال بھی کہا جا سکتا ہے۔

پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک مزید پھیلایا ہے اور اس نیٹ ورک کی بدولت67ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ 2024ء میں دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر اچانک حملے کرکے، بارودی سرنگیں بچھا کے خودکش حملے کر کے 754سکیورٹی اہلکاروں یعنی افسروں اور جوانوں کو شہید کیا تھا جبکہ اسی مدت میں 900 دہشت گرد ہلاک بھی کیے گئے تھے۔ 2025ء کے بڑے خونی واقعات یا دہشت گردی کے بڑے واقعات میں جعفر ایکسپریس کا واقعہ بھی ہے جب دہشت گردوں نے ٹرین کو اغوا کرکے اسے ایک سرنگ کے اندر لے جا کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ پاک فوج نے آپریشن کر کے رہائی دلائی۔

کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر دہشت گرد حملہ میں بھی درجن سے زیادہ جانیں چلی گئیں۔ سب سے بڑا اور اہم واقعہ دہشت گردوں کی محفوظ ترین شہر اسلام آباد کے اندر رسائی تھی۔ جہاں ایک خودکش حملہ آور نے جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے پر اپنے آپ کو اڑا دیا اور 12شہریوں اور وکلا کی شہادت ہوئی۔ دہشت گردوں نے پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ کے پی کے میں وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں نے ایک بڑا حملہ کیا جس کو پاک فوج نے پسپا کر دیا۔ 2025 ء میں ہونے والے ان دہشت گرد حملوں میں 95 فیصد حملے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہوئے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں سال 2024ء کی نسبت 40فیصد زیادہ حملے ہوئے۔

کے پی کے میں 413دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 581افراد شہید اور 698زخمی ہوئے۔14اگست کو دہشت گردوں نے کے پی کے کے 11 اضلاع میں ایک ہی دن میں دہشت گرد کاروائیاں کیں۔بلوچستان میں گزشتہ سال 2025ء میں 254 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 419افراد ہلاک ہوئے اور 60زخمی اس طرح وہاں پر یہ اضافہ 26فیصد رہا۔ اس کے مقابلے میں سندھ میں 2024ء کی نسبت دہشت گرد حملے کم ہوئے۔ سندھ میں دہشت گردی کی 21وارداتیں ہوئیں جن میں پانچ لوگ جان بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے دہشت گرد حملے میں 12افراد کی جانیں گئیں۔

گلگت بلتستان میں بھی تین دہشت گرد حملے ہوئے اور ان میں تین سکیورٹی اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے پولیس نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ کے پی کے پولیس میں آئی جی ذالفقار حمید کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف 3277آپریشنز کیے، جس میں 459دہشت گرد ہلاک کیے گئے جو کہ گزشتہ سال2024ء سے 43فیصد زیادہ ہے جبکہ دہشت گردوں نے پولیس پر 536حملے کئے اور ان حملوں میں 159اہلکاروں نے شہادت پائی۔ یہ حملے چھپ کر، گھات لگا کر اور بارودی سرنگوں کا طریقہ اختیار کر کے کیے گئے۔

خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ سال 1300 دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا اور ان گرفتار ہونے والوں میں 29ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی تھے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاک فوج نے گزشتہ سال دہشت گردوں کے خلاف 67023آپریشن کیے جن میں 1873 دہشت گردوں کو مارا گیا اور ان مرنے والوں میں 136افغان شہری بھی تھے۔

2021ء میں افغانستان سے امریکیوں کی بزدلانہ رخصتی اور اس کے نتیجے میں جدید ترین اسلحے کی ایک بھاری مقدار طالبان کے ہاتھ لگنا، خطے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ امریکیوں نے بھاگتے ہوئے اس اسلحے کو ضائع کرنا نجانے کیوں پسند نہیں کیا یا شاید اس خطے کو مسلسل آگ میں جھونکنے کے لئے وہ جان بوجھ کر یہ اسلحہ افغان اور طالبان دہشت گردوں کے لئے چھوڑ کے چلے گئے۔ یہ جدید اسلحہ آج بھی پاکستان کے لئے خاص طور پر مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے ۔