لندن(نمائندہ خصوصی)برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 221 ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک مشترکہ کھلا خط ارسال کیا ہے، جس میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔ یہ مطالبہ اقوامِ متحدہ کی فلسطین سے متعلق آئندہ کانفرنس سے قبل سامنے آیا ہے، جو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہو رہی ہے۔
بی بی سی کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں زور دیا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا برطانیہ کی تاریخی ذمہ داری ہے، خاص طور پر بلفور ڈیکلریشن اور ماضی میں فلسطین پر بطور مینڈیٹری طاقت کردار کے تناظر میں۔ خط میں کہا گیا کہ اگرچہ برطانیہ تنہا فلسطینی ریاست کے قیام کا فیصلہ نہیں کر سکتا، تاہم اس کی سفارتی حمایت ایک مؤثر اور اخلاقی اقدام ہو گی۔
خط میں مزید کہا گیا کہ دو ریاستی حل کی برطانیہ کی دیرینہ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کا یہی موزوں وقت ہے، اور فلسطین کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت برطانوی مؤقف کو تقویت دے گا۔
خط پر دستخط کرنے والے پارلیمنٹیرینز کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ صرف ایک جماعت کا نہیں، بلکہ برطانوی پارلیمان میں موجود مختلف سیاسی حلقوں کی متفقہ آواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2014 میں بھی ایوانِ زیریں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی تھی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس فیصلے کو عملی جامہ پہنائے۔
دریں اثناء، لندن میں ہزاروں مظاہرین نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں خوراک کی ترسیل پر پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے غزہ میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
فرانسیسی صدر کی جانب سے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے گا اور ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے اسی تناظر میں برطانیہ سے بھی فوری اقدام کی اپیل کی ہے۔

