24 کروڑ پاکستانیوں کا پانی روکنا کھلی جارحیت ہے — بلاول بھٹو زرداری

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے عمل کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 24 کروڑ پاکستانیوں کا پانی روکنا بھارت کی کھلی جارحیت ہے۔

واشنگٹن میں ایک اہم نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ”پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر بھارت کی جانب سے پانی کی بندش جیسے اقدامات علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو اگر کوئی تحفظات ہیں تو وہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرے تاکہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

“ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مگر بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے، جو تمام تصادم کی جڑ ہے۔ جب تک بھارت اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا، دہشتگردی کو جواز ملتا رہے گا۔”بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی دباؤ کی پالیسیوں نے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا ہے، اور یہ عالمی امن کیلئےخطرہ ہے۔

“بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کا ردعمل دہشتگرد تنظیموں کو فائدہ دیتا ہے، اور مستقبل میں مزید حملوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔”چیئرمین پیپلزپارٹی نے زور دے کر کہا کہ بھارت آبی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو بین الاقوامی اصولوں اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔

“24 کروڑ پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں، یہ صرف معاہدہ شکنی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔”انہوں نے کہا کہ اگر نئے مذاکرات کا آغاز ہوا تو یہ لازمی ہوگا کہ پہلے پرانے معاہدوں، خاص طور پر سندھ طاس معاہدہ، پر مکمل عملدرآمد کیا جائے تاکہ باہمی اعتماد بحال ہو سکے۔

بلاول بھٹو نے بھارتی نیول افسر کلبھوشن یادیو کی بلوچستان میں گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ”بھارت پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث ہے اور یہ بات عالمی برادری کے سامنے واضح ہے۔”انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ نہ صرف اپنے میڈیا اور عوام کے ساتھ جھوٹ بول رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ڈس انفارمیشن مہم چلا رہا ہے۔

“پہلگام حملے پر بھی بھارت نے غلط بیانی کی اور آج تک یہ نہیں بتایا کہ حملہ آور کون تھے اور بھارت نے اس تنازع میں اپنے کتنے طیارے کھوئے۔”

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ”پاکستان نے ہمیشہ شفافیت کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے اپنے عوام، میڈیا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سچ بولا ہے، یہی ہماری اخلاقی برتری ہے۔”

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان پاکستان کے اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ امن، مذاکرات اور انصاف ہی خطے کی ترقی و استحکام کا واحد راستہ ہیں۔ بھارت کی جانب سے آبی دہشتگردی، کشمیریوں پر ظلم، اور پاکستان میں مداخلت جیسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں