اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، استحکامِ پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ نکات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ایم کیو ایم-پی کے 7 رکنی وفد کی قیادت کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔ وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف، امین الحق اور خواجہ اظہارالحسن شامل تھے۔
ملاقات میں مجوزہ آئینی ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا، جس میں بلدیاتی حکومتوں کو خودمختاری دینے سے متعلق ایم کیو ایم کے مطالبات بھی زیرِ بحث آئے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور مشیرِ وزیراعظم رانا ثنااللہ شریک تھے۔
ایم کیو ایم نے زور دیا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کے بعد اب بلدیاتی خودمختاری کو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ ’’آئین مقدس ضرور ہے مگر جامد نہیں، وقت کے تقاضوں کے مطابق ترامیم ضروری ہیں‘‘۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 140-اے میں ترمیم کر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات آئینی طور پر یقینی بنائے جائیں۔دوسری جانب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’’بلدیاتی اداروں کو بھی حکومت سمجھا جائے‘‘ اور آئین میں ناظمین و میئرز کی مدتِ کار کی ضمانت دی جائے۔
“وزیراعظم سے پیپلز پارٹی کے وفد کی ملاقات”
پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی مجوزہ شقوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفد میں عرفان قادر، راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور شیری رحمٰن شامل تھے۔
ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا وفد نور خان ایئربیس روانہ ہو گیا، جہاں سے وہ خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچے گا۔پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج شام 7 بجے کراچی میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں مجوزہ ترمیم پر حتمی مؤقف طے کیا جائے گا۔
وزیراعظم سے ملاقات کے دوران حکومتی وفد میں اسحٰق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان شریک تھے۔
“استحکام پاکستان پارٹی کا وفد بھی وزیراعظم سے ملا”
وزیراعظم سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر و وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیرِ مملکت برائے سمندر پار پاکستانی عون چوہدری نے ملاقات کی۔اس موقع پر مجوزہ آئینی ترمیم پر مشاورت کی گئی۔
“(ق) لیگ کے وفد کی بھی مشاورت”
وزیراعظم سے مسلم لیگ (ق) کے 4 رکنی وفد نے ملاقات کی جس کی قیادت وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کی۔وفد میں سینیٹر کامل علی آغا، چوہدری محمد الیاس اور فرخ خان شامل تھے۔ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی گفت و شنید ہوئی۔
اس موقع پر اسحٰق ڈار، ایاز صادق، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطا تارڑ، طارق فضل چوہدری اور رانا ثنااللہ بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت مکمل کریں گے تاکہ مجوزہ ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

