27ویں آئینی ترمیم — طاقت کے توازن کی نئی تعریف؟

پاکستان کی تاریخ میں ہر آئینی ترمیم اپنے دور کے سیاسی حالات، طاقت کے توازن اور ادارہ جاتی کشمکش کا عکاس رہی ہے۔2025 کی “ستائیسویں آئینی ترمیم” (Constitution (Twenty-Seventh Amendment) Act, 2025) بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس نے ریاست کے تین بنیادی ستونوں عدلیہ، انتظامیہ اور دفاعی اداروں کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔ یہ ترمیم اگر ایک جانب “مؤثریت” اور “مرکزیت” کے نعروں کے ساتھ سامنے آئی ہے تو دوسری طرف اس نے آئینی خودمختاری، ادارہ جاتی توازن، اور صوبائی مساوات پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

عدلیہ: دوہرا نظام یا آئینی وضاحت؟
ترمیم کا سب سے نمایاں پہلو عدلیہ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ہے۔ ایک نئی عدالت Federal Constitutional Court (FCC) قائم کی گئی ہے جو آئین کی تشریح، وفاقی تنازعات اور آئینی درخواستوں کے فیصلوں کی مجاز ہوگی۔

اس عدالت کی مستقل نشست اسلام آباد میں رکھی گئی ہے اور صوبوں سے مساوی نمائندگی کی شرط بھی شامل ہے۔ تاہم، آئینی ماہرین کے مطابق اس اقدام نے سپریم کورٹ کے روایتی اختیار کو محدود کیا ہے۔
اب آئین کی تشریح کا بنیادی حق سپریم کورٹ کے بجائے FCC کے پاس ہوگا۔

یہ تبدیلی دراصل “دوہری عدلیہ” کے تصور کو جنم دیتی ہے، جہاں دو اعلیٰ عدالتیں آئینی دائرہ اختیار کے حوالے سے ممکنہ طور پر متوازی حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ ججز کی تقرری اور تبادلے سے متعلق ترامیم کے مطابق، صدر کو ہائی کورٹ کے کسی جج کو اُس کی مرضی کے برخلاف بھی دوسرے صوبے کی ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا بشرطِ یہ کہ ججز کمیشن اس کی سفارش کرے۔ یہ نکتہ عدلیہ کی آزادی اور ججز کے تحفظ کے حوالے سے سنگین تشویشات کو جنم دے رہا ہے۔

دفاعی قیادت: فوجی کمان کا نیا چہرہ
27ویں ترمیم نے دفاعی ڈھانچے میں بھی ایک تاریخی تبدیلی کی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے بعد اب وزیراعظم کی مشاورت سے صدر Chief of Defence Forces (CDF) کے عہدے پر تقرری کرے گا جو تینوں مسلح افواج کی کمان متحدہ حیثیت میں سنبھالے گا۔
یوں Joint Chiefs of Staff Committee کا نظام نومبر 2025 سے ختم ہو جائے گا۔
بظاہر اس ترمیم کا مقصد دفاعی فیصلہ سازی میں ہم آہنگی اور رفتار پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔
مگر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عسکری قیادت کو “آئینی تحفظ” دے کر اسے ایک نیم سیاسی و آئینی کردار فراہم کر سکتی ہے۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ آئین کی روح میں دیے گئے “سویلین بالادستی” کے اصول متاثر ہوں، اور فوج کا اثر و رسوخ آئینی حدود سے آگے بڑھ جائے۔

ساتھ ہی، فائیو اسٹار رینک (جیسے Field Marshal یا Admiral of the Fleet) رکھنے والے افسران کو تاحیات مراعات اور درجہ برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جو عسکری مراعاتی ڈھانچے کو آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

وفاق اور صوبے: مرکزیت کی نئی لکیر
وفاقی و صوبائی اختیارات کے باب میں بھی قابلِ ذکر تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں۔
صوبائی کابینہ کے ارکان کی کم از کم فیصدی حد (11٪ سے 13٪) متعین کرنے کی تجویز نے چند صوبوں میں اختلافات کو جنم دیا ہے۔
اسی طرح NFC ایوارڈ جو صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا بنیادی ذریعہ ہے — پر نظرِ ثانی کی بات کی گئی ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ ان اصلاحات سے وسائل کے استعمال میں شفافیت اور توازن پیدا ہوگا، مگر نقادوں کے نزدیک یہ اقدام صوبائی خودمختاری کو محدود کر کے مرکزیت کے رجحان کو بڑھا سکتا ہے۔ خصوصاً چھوٹے صوبوں کے لیے یہ احساس محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔

صدر کی قانونی استثنیٰ احتساب سے بالاتر؟
ترمیم کے تحت صدرِ مملکت کو مدتِ منصب کے دوران مکمل قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
یعنی کسی بھی عدالت میں صدر کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہ شروع کیا جا سکے گا اور نہ ہی جاری رکھا جا سکے گا۔ یہ شق آئینی ماہرین کے نزدیک احتسابی نظام کی شفافیت کے منافی ہے، کیونکہ اس سے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد “قانون سے بالاتر” حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔

ممکنہ اثرات توازن یا عدم توازن؟
اگر ان ترامیم کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک واضح رجحان نظر آتا ہے طاقت کا مرکز عدلیہ یا صوبوں کے بجائے وفاقی انتظامیہ اور عسکری اداروں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ حکومت کے حامی اسے “ریاستی استحکام” اور “ادارہ جاتی ہم آہنگی” کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ آئینی جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔
عدلیہ کی خودمختاری، صوبائی مساوات، اور پارلیمانی احتساب یہ تین ایسے اصول ہیں جو کسی بھی آئینی ریاست کی بنیاد بناتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک ستون کو کمزور کیا جائے تو آئین کا توازن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

نتیجہ: آئین کے سفر کا نیا موڑ
پاکستان کے آئینی سفر میں 27ویں ترمیم ایک نیا موڑ ہے۔
یہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کی ازسرِنو تشکیل ہے۔
یہ طے کرنا اب ریاستی اداروں، پارلیمنٹ، اور عوام کے ہاتھ میں ہے کہ آیا یہ ترمیم ایک مضبوط وفاق کی سمت قدم ہے یا ایک ایسے نظام کی جانب پیش رفت جس میں طاقت کا توازن چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔