27ویں ترمیم: اصلاح یا ایک نیا زخم؟

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ وقتی مفاد کے لیے کی گئی آئینی تبدیلیاں کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں، ہر ایسی ترمیم نے بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا اور قوم نے اس کی بھاری قیمت ادا کی۔

آئین کسی حکومت کے وقتی مفاد یا چند افراد کی خواہشات کے لیے نہیں بنایا جاتا۔ آئین ایک ایسی دستاویز ہے جو نسلوں کے درمیان تسلسل، استحکام اور انصاف کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی آئین کو وقتی سیاسی فائدے کے لیے موڑا گیا، ملک نے طویل عرصہ اس کی قیمت ادا کی۔ آج جب 27ویں آئینی ترمیم کی بات ہو رہی ہے تو ضرورت ہے کہ سیاست دان غیر معمولی احتیاط اور تدبر سے کام لیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق، مجوزہ ترمیم میں ایک ”آئینی عدالت‘‘ کے قیام، آرٹیکل 243 میں تبدیلی ، جو مسلح افواج کی سربراہی سے متعلق ہے — اور عدلیہ میں ججوں کی تقڑی و تبادلے کے نئے اصول شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبائی حصوں سے متعلق تحفظات کو ختم کرنے اور تعلیم و آبادی منصوبہ بندی جیسے شعبوں کو دوبارہ وفاقی دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ یہ معمولی ترامیم نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے، وفاقیت اور سول و عسکری توازن کو براہِ راست متاثر کرنے والی تبدیلیاں ہیں۔ ایسی بنیادی نوعیت کی ترمیم بغیر وسیع قومی اتفاقِ رائے کے نہیں ہونی چاہیے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر پچھتاوے کا باب رقم کرے گی۔

1973 کا آئین قومی یکجہتی کا وہ لمحہ تھا جب ایک زخم خوردہ قوم نے سیاسی انتشار اور علیحدگی کے بعد خود کو دوبارہ متحد کیا۔ اس آئین کی روح پارلیمانی، جمہوری اور وفاقی تھی تاکہ کوئی فرد یا ادارہ ریاست پر مطلق غلبہ حاصل نہ کر سکے۔ مگر جلد ہی اس میں ترامیم کا سلسلہ شروع ہوا جنہوں نے آئین کو حکمرانوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا۔

1985 کی آٹھویں ترمیم اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ مارشل لا میں لائی جانے والی اس ترمیم نے صدر کو غیر معمولی اختیارات دیے، بالخصوص آرٹیکل 58(2)(b) کے ذریعے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار۔ اس ایک شق نے دو دہائیوں تک جمہوری نظام کو غیر مستحکم رکھا۔ 1988 سے 1999 کے درمیان ہر منتخب حکومت اس آئینی ہتھیار کا نشانہ بنی۔

بعد ازاں جمہوری حکومت نے تیرہویں ترمیم کے ذریعے صدر کے یہ اختیارات ختم کیے، لیکن 2003 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں سترہویں ترمیم کے ذریعے وہی اختیارات دوبارہ بحال کر دیے گئے اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کو آئینی حیثیت دے دی گئی۔ یہ بندوبست بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ۲۰۱۰ء میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پارلیمان نے ایک بار پھر اپنی بالادستی بحال کی، صدر کے اختیارات محدود کیے اور متعڈ شعبے صوبوں کو منتقل کر دیے۔ اس ترمیم کو جمہوری فتح قرار دیا گیا، مگر اس کے عملی نفاذ نے وفاق اور صوبوں کے درمیان کئی نئے تنازعات کو جنم دیا۔ اسی تسلسل میں حالیہ 26ویں آئینی ترمیم، جس نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقِ کار میں تبدیلی کی، بھی شدید تنازعے کا باعث بنی ہے اور اب عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ سماعت ہے ، جو اس امر کی تازہ مثال ہے کہ بغیر اتفاقِ رائے کی آئینی تبدیلیاں ملک کو مزید تقسیم کرتی ہیں۔ تعلیم، صحت اور آبادی جیسے شعبوں میں کارکردگی اور فنڈز کے مسائل آج بھی بدستور موجود ہیں، اور اب انہی اختیارات کو واپس وفاق کے حوالے کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

یہ تمام مثالیں ایک واضح پیغام دیتی ہیں: جب آئینی ترامیم اصول کے بجائے طاقت کے توازن یا وقتی فائدے کے لیے کی جاتی ہیں تو وہ پائیدار نہیں ہوتیں۔ ہر فوجی یا سیاسی دور میں کی گئی ایسی ترامیم بالآخر واپس لینا پڑی ہیں۔ اس بار بار کے ردّ و بدل نے اداروں کے تسلسل کو نقصان پہنچایا، عوام کے اعتماد کو مجروح کیا اور آئین کو ایک سیاسی ہتھیار بنا دیا۔

آئین کوئی کھیل کا میدان نہیں کہ جب چاہیں اس کے قواعد بدل دیے جائیں۔ یہ ایک عہد ہے ، قوم اور اس کے اداروں کے درمیان ایک مقدس معاہدہ۔ بار بار کی غیر ضروری ترامیم نے صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ عوام کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ان کا بنیادی قانون طاقتوروں کی مرضی سے بدل سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے نہ ادارے۔

اگر واقعی کسی ترمیم کی ضرورت ہے تو وہ خلوصِ نیت، شفافیت اور قومی مشاورت کے ذریعے ہونی چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں، صوبائی حکومتوں، ماہرینِ قانون اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کسی ترمیم کا تصور بھی خطرناک ہے۔ آئینی تبدیلیاں بند کمروں میں نہیں بلکہ پارلیمان، میڈیا اور عوامی فورمز پر کھلی بحث کے بعد ہونی چاہئیں۔ صرف اس صورت میں یہ طے ہو سکے گا کہ ترمیم جمہوریت کو مضبوط کر رہی ہے یا صرف طاقت کی از سرِ نو تقسیم کر رہی ہے۔

اقتدار رکھنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حکومتیں عارضی ہوتی ہیں مگر آئین دائمی ہے۔ جو آج انہیں فائدہ دیتا دکھائی دے رہا ہے، کل ان کے اپنے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ تاریخ نے ہر اس رہنما کو یاد رکھا ہے جس نے آئین کو ذاتی یا وقتی مفاد کے تابع کیا۔ ضیاء الحق کی ترمیم نے انہی کے نظام کو کمزور کیا، مشرف کی ترامیم ان کے جانے کے بعد بے اثر ہو گئیں، اور اٹھارویں ترمیم کے کچھ خالق خود اس پر نظرِ ثانی کی بات کرنے لگے ہیں۔

یہ لمحہ تدبر کا ہے، جلدبازی کا نہیں۔ آئین کی طاقت اس میں نہیں کہ اسے بار بار بدلا جائے بلکہ اس میں ہے کہ اسے ایمانداری سے نافذ کیا جائے۔ اگر ہمارے سیاست دان اس سادہ حقیقت کو سمجھ لیں تو شاید ۲۷ویں ترمیم ، جو بھی صورت اختیار کرے ، قومی وحدت کی علامت بن سکے، نہ کہ ماضی کی آئینی غلطیوں کی ایک اور قسط، ایک اور گہرا زخم۔

اپنا تبصرہ لکھیں