4 روزہ جنگ میں پاکستان بھارت پر فاتح قرار، امریکی کانگریس میں رپورٹ پیش

واشنگٹن(رائٹرز) امریکا-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کی کانگریس میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی میں ہونے والے چار روزہ تصادم میں پاکستان نے بھارت پر ’’فوجی برتری‘‘ حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق اس جھڑپ کے دوران چینی ہتھیاروں کی کارکردگی نمایاں رہی اور چین نے اس موقع کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جانچنے اور فروغ دینے کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جسے بعد میں بڑھا کر سات کر دیا گیا، جبکہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ عملاً آٹھ بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تردید کی تھی اور جوابی کارروائی میں بھارت کے 26 اہداف کو نشانہ بنایا۔

کانگریس میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بھارت کے ان دعوؤں کا بھی ذکر کیا گیا کہ چین نے پاکستان کو جھڑپ کے دوران بھارتی فوجی پوزیشنز سے متعلق معلومات فراہم کیں، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا جبکہ چین نے ان کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے 2025 میں پاکستان کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری میں اضافہ کیا، جس سے بھارت کے ساتھ اس کی کشیدگی بھی بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق مئی کی جھڑپ میں پہلی بار چین کے جدید عسکری نظام — جن میں HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، PL-15 میزائل اور J-10 لڑاکا طیارے شامل ہیں — حقیقی جنگ میں آزمائے گئے۔ چین نے بعد ازاں پاکستان کو جے-35 طیارے، KJ-500 اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیشکش بھی کی۔ اسی دوران پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا جو 9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے بعد چینی سفارتخانوں نے اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی کو اجاگر کیا، جبکہ فرانسیسی انٹیلی جنس نے الزام لگایا کہ چین نے فرانسیسی رفال طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے غلط معلومات کی مہم چلائی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کا الزام بغیر شواہد پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کیا۔ 7 مئی کو بھارت نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے جن کے جواب میں پاکستان نے بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی مداخلت کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔