گلگت(نامہ نگار)پاکستان کی نوجوان ماؤنٹینر سلطانہ ناسب نے 5 ماہ کے حمل کے دوران پاکستان کے دوسرے بلند ترین پہاڑ K2 کو سر کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ سلطانہ ناسب نے اپنے اس غیر معمولی کارنامے کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی ہمت اور حوصلے سے یہ ممکن بنایا۔
انٹرویو میں سلطانہ ناسب نے کہا، “یہ حیرت انگیز اور شاندار تجربہ تھا۔ میں اس وقت 5 ماہ کی حاملہ تھی، لیکن اس کے باوجود میں نے K2 سر کیا۔ یہ واقعی حوصلے اور ہمت کا تقاضا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا، “یہ خیال میں نے خود اپنایا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں حاملہ ہوں، انہوں نے پہلے کہا کہ نہ جاؤ، پھر کہا ٹھیک ہے، یہ تم پر ہے، تم جا سکتی ہو۔ انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، ماشااللہ۔”
سلطانہ ناسب نے بتایا کہ اس دوران انہیں کوئی بیماری یا دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ “میں بالکل ٹھیک تھی، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لوگ کہتے ہیں کہ عورت کو آرام کرنا چاہیے، لیکن میں نے بالکل آرام نہیں کیا اور گھر کے کام بھی کیے۔ میں جانتی ہوں کہ عورتیں بہت مضبوط ہیں اور عورتیں ہر کام کر سکتی ہیں۔”
انٹرویو کے دوران سلطانہ ناسب نے بتایا کہ ان کے آئندہ منصوبوں میں ایورسٹ سر کرنا شامل ہے اور اس کے لیے اسپانسر کی تلاش جاری ہے۔ “یہ ایک بڑا موقع ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے، اور یہ پاکستان کے لیے بھی ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔”
سلطانہ ناسب کی بیٹی بھی ان کے ساتھ موجود تھی، جو خوشی سے بار بار ہاتھ ہلا رہی تھی اور کہہ رہی تھی، “میں نے بھی یہ کر لیا۔ میں بھی جا پہنچی۔” سلطانہ نے کہا کہ ان کی بیٹی بھی ان کے کارنامے میں شامل رہی اور یہ ان کے حوصلے کی عکاسی ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کی ہمت، حوصلے اور طاقت کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔سلطانہ ناسب کے کارنامے کی حمایت میں ان کے اہلِ خانہ نے بھی کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سلطانہ کا حوصلہ بڑھایا اور ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ واقعہ پاکستان کی خواتین کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ عورتیں کسی بھی مشکل یا خطرناک صورتحال میں مردوں کے برابر یا اس سے بھی بہتر کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔

