لاہور( نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے اعلان کردہ 90 روزہ احتجاجی تحریک پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے اندرونی سطح پر غیر واضح قرار دیا ہے۔
علی امین گنڈاپور کی جانب سے عمران خان کی رہائی کیلئے90 دن کی تحریک کے اعلان پر پی ٹی آئی کی سینئر رہنما عالیہ حمزہ ملک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور پارٹی کے اندر مشاورت کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کی جانب سے 90 روزہ ملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان کیا گیا، تاہم اس اعلان پر پارٹی کے اندر سے ہی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے وہ ایسی “مصروفیات” میں تھیں جن کا انہیں خود بھی علم نہیں تھا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ عمران خان کی رہائی کیلئے لائحہ عمل کا آج یا کل کوئی اعلان ہوا ہے؟ تحریک کہاں سے، کیسے اور کن فیصلوں کی بنیاد پر شروع کی گئی؟
عالیہ حمزہ نے مزید کہا کہ “5 اگست کے مقابلے میں 90 دن کا پلان کہاں سے آیا؟” انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے اس تحریک کی تفصیلات دیکھی ہوں تو وہ انہیں بھی آگاہ کر دے۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا تھا کہ عمران خان کی رہائی اور جمہوری حقوق کیلئے 90 روزہ تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو ہر گلی، محلے، شہر اور قصبے تک پھیلائی جائیگی، اور اس دوران فیصلہ کیا جائیگا کہ احتجاج مقامی سطح پر ہو یا کسی مرکزی مقام پر۔
علی امین کا کہنا تھا کہ 90 دن کی علامتی اہمیت ہے کیونکہ عمران خان ہمیشہ تبدیلی کیلئے 90 دن کی بات کرتے تھے، اب فیصلہ کن مرحلہ آ چکا ہے۔پی ٹی آئی کے اندر سے اختلافی آوازوں کے ابھرنے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر قیادت اور حکمتِ عملی پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں تحریک کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

