غزہ میں انسانی حقوق کیخلاف ورزیوں پر یوئیفا اور فیفا پر دباؤ میں اضافہ ، پال پوگبا، حکیم زیاش اور اداما ٹراوری شامل
لندن/پیرس(سپورٹس ڈیسک) دنیا کے 70 سے زائد معروف فٹ بال کھلاڑیوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اشتراک سے یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا (UEFA) سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو تمام فٹ بال مقابلوں سے معطل کیا جائے کیونکہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
“فٹ بالرز کا اجتماعی احتجاج”
منگل کے روز کھلاڑیوں نے یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفیرن کے نام ایک اجتماعی خط بھیجا، جسے تنظیموں ’گیم اوور اسرائیل‘ اور ’ایتھلیٹس فار پیس‘ نے مرتب کیا۔اس خط میں کہا گیا کہ یوئیفا کو اسرائیل کی رکنیت معطل کرنی چاہیے تاکہ یورپی فٹ بال کمیونٹی “نسل کشی، اپارتھائیڈ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معمول” کا حصہ نہ بنے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں🇫🇷 پال پوگبا (فرانس کے ورلڈ کپ فاتح)،🇳🇱 انور الغازی (ڈچ فارورڈ)،🇲🇦 حکیم زیاش (مراکش کے بین الاقوامی اسٹار)،🇪🇸 اداما ٹراوری (اسپین کے ونگر) شامل ہیں.
’گیم اوور اسرائیل‘ کے خط میں لکھا گیا”بین الاقوامی برادری میں کسی حکومت کو خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا جو نسل کشی، نسلی امتیاز یا انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث ہو۔”
مزید کہا گیا”اسرائیل کو طویل عرصے سے ان جرائم پر سزا نہ ملنے کا سلسلہ صرف اجتماعی دباؤ اور کھیلوں میں بائیکاٹ جیسے اقدامات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔”خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان علاقوں سے آنے والی ٹیموں کی اسرائیلی فٹ بال لیگوں میں شمولیت ناقابلِ قبول ہے۔
’گیم اوور اسرائیل‘ کے کیمپین ڈائریکٹر آشیش پرشار نے یوئیفا کے صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا”محض امن منصوبے کے نام پر اسرائیل کے خلاف ووٹ روک دینا یا تو انتہائی سادہ لوحی ہے یا جان بوجھ کر اندھا پن۔”انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ہند رجب فاؤنڈیشن اور غزہ ٹریبونل شامل ہیں، نے بھی اس اپیل کی توثیق کی۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی فیفا اور یوئیفا سے اسرائیل کو بین الاقوامی فٹ بال سے معطل کرنے کی سفارش کی، ان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں جنگ کے دوران نسل کشی کی ہے.قبل ازیں آئرلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (FAI) نے بھی اپنے بورڈ کو اسرائیل کے بائیکاٹ کی سفارش کی تھی، جس کے بعد ترکی اور ناروے کی تنظیموں نے بھی اس موقف کی حمایت کی۔
یوئیفا نے اکتوبر میں اس معاملے پر غور کیا تھا کہ آیا اسرائیل کو یورپی مقابلوں سے نکالا جائے، تاہم امریکا کی ثالثی میں 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو “جھوٹ اور اسکینڈل” قرار دیتے ہوئے نسل کشی کے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
یہ تازہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کھیل اب سیاست سے الگ نہیں رہے۔ماہرین کے مطابق یوئیفا پر بڑھتا ہوا یہ دباؤ یورپی فٹ بال میں اخلاقی ذمہ داری اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو مرکزی حیثیت دے سکتا ہے۔اگر یوئیفا نے اسرائیل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ عالمی سطح پر ایک تاریخی نظیر قائم کر سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں جنوبی افریقہ کو نسلی امتیاز کے دور میں عالمی کھیلوں سے باہر کر دیا گیا تھا۔

