2سال پہلے یہی دن تھے، ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی تھی، تمام جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی تھیں، ماسوائے ایک جماعت تحریک انصاف کے،،، ریاست پوری طاقت کے ساتھ اس جماعت کی سرکوبی کر رہی تھی،،،ریاست اغوا کاری، چھینا جھپٹی، چھاپے، کریک ڈاﺅن، گرفتاریاں، جان کے لالے اور جان کنی کے ساتھ الیکشن کروا رہی تھی، صرف یہی نہیں ،اس کے ساتھ ساتھ نہ پارٹی، نہ بلا، نہ بلّے باز۔ نہ جلسہ، نہ جلوس، نہ ریلی۔ نہ انتخابی تقریریں نہ کوریج۔ نہ نام، نہ اذنِ کلام۔ شاعر ساغر صدیقی نے سچ کہا تھا:
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اَسرار نظر آتے ہیں
جس کے ہاتھ میں PTI کاجھنڈا نظر آیا، اُس کی ایسی تیسی کر دی۔ بزرگوں کو سرِعام پھینٹیاں، تھپڑ، دھکے۔ ذرا سوچئے! پاکستان کی تاریخ کا واحد ایسا الیکشن جس میں بارہ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز تھے‘ الیکشن 2024ءمیں ووٹ کاسٹ کرنے والوں کا تناسب پاکستان کی انتخابی تاریخ کے سارے پچھلے ریکارڈ بریک کر گیا۔ بالکل ویسے ہی، جس طرح طاقت،جبر و استبداد نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑے، صرف اس لیے کہ لوگوں کو ووٹ سے مایوس کیا جائے۔ویسے مجھے تو پورا یقین تھا کہ پہلے کبھی ووٹوں کی گنتی درست طریقے سے ہوئی ہے؟ جو اب ہوگی،،، لیکن پھر بھی ایک اُمید لگا لی، کہ شاید یہ عوامی مینڈیٹ کے آگے اپنے آپ کو سرنڈر کردیں،،،مگر ایسا نہ ہو سکا۔ الیکشن 2024ءکسی اور کا تھا اور کسی اور کو دے دیا گیا، اور پھر اس ہٹ دھرمی پردو سال گزرنے کے بعد آج بھی یہ قائم و دائم ہیں ۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک بندے کو روکنے کے چکر میں ہم نے دو سال مزید ضائع کر دیے۔ جس سے ملک کا مزید دیوالیہ نکل گیا اور قرض اتنا بڑھ گیا کہ شاید اگلی سات نسلیں بھی اس میں ڈوبی رہیں۔
پتہ نہیں اشرافیہ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ اگر آپ شفاف الیکشن نہیں کرواتے تو اُس سے آپ کو عارضی فائدہ تو ہو جاتا ہوگا، یا اُس سے کسی بڑے کی انا کو تسکین تو مل جاتی ہوگی، لیکن وہ ملک کے ساتھ بہت بر ا کر جاتا ہے، 1970ءمیں ہم نے الیکشن جیتنے والی پارٹی کو اقتدار نہیں دیا، اُس کا نتیجہ کیا نکلا؟سیاسی حالات خراب ہوئے، اور ملک دو لخت ہوگیا،،، اس وقت بھی یہی صورتحال ہے، کہ جب سے اقتدار فارم 47والوں کے ہاتھ میں ہے، تب سے کیا ملک سکون میں ہے؟ آپ کے سامنے ساری صورتحال ہے، کسی ایک جگہ امن نہیں ہے، ملک کو اگر صحیح چلانا ہے تو اُس کا بین الاقوامی سطح پر جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ صحیح بندے کو صحیح جگہ پر تعینات کیا جائے،،، جب آپ یہ نہیں کرتے تو ملک کبھی ترقی نہیں کرتا،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں، کے پی کے میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے، بلوچستان میں بدنظمی بڑھ گئی ہے ، کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے ،،پنجاب میں ہر طبقہ ہائے فکر چیخیں ما رہا ہے،،،کسان کا حال کوئی نہیں پوچھ رہا،،، ٹیکسٹائل ملیں بند ہو رہی ہیں،،، بین الاقوامی ادارے ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں،،، انڈسٹریاں تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں،،،لیکن آپ عوام کو بسنت کے نام پر بہکاوا دے رہے ہیں،،،اور سب اچھا ہے کی خبریں عوام تک پہنچا رہے ہیں اور تو اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ آئے روز جھڑپوں اور سرد جنگوں نے حالات معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، وزیر اعظم خود فرما رہے ہیں کہ یہ جو زر مبادلہ کے ذخائر پڑے ہیں،،، یہ سب دوست ملکوں کے ہیں،،،جنہوں نے صرف اکاﺅنٹ میں رکھنے کے لیے دیے ہوئے ہیں،،، اور ان ممالک سے ہر چند ماہ بعد التجا کی جاتی ہے کہ بھائی! ابھی اکاﺅنٹ میں پڑے رہنے دیں،،، اگر یہ اکاﺅنٹ سے نکال لیں گے تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے،،، اور ہماری امپورٹ بند ہو جائے گی، کوئی ہمیں ادھار کیا نقد بھی چیزیں نہیں بیچے گا۔
آپ یہ سب بھی چھوڑیں ،،، یہ دیکھیں کہ فارم 47ہی کی برکات ہیں کہ آپ کو 26ویں آئینی ترامیم کی ضرورت پڑی، پھر 27ویں کی ضرورت پڑی اور اب 28ویں ترمیم کی ضرورت پڑ رہی ہے،،، جس کے بعد آپ نے آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ،، اگر یہ سب منتخب نمائندے ہوتے اور عوام کی من چاہی پارٹی کو حکومت ملتی تو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت پڑتی؟خدا کے لیے ملک کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں،،، عوام کا استحصال نہ کریں،، کیوں کہ اشرافیہ نے تو جب ملک میں آفت آنی ہے تو انہوں نے غائب ہو جانا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح حسینہ واجد ملک چھوڑ کر فرار ہو گئی یا بشارلاسد شام چھوڑ کر روس چلا گیا،،، ان کی تو میرے خیال میں پہلے ہی سیٹنگز ہوئی ہوتی ہیں،،، سب کی جائیدادیں باہر ہوتی ہیں،،، یہ اپنا ہی جیٹ طیارہ بک کروائیں گے،، اور باہر چلے جائیں گے،،،
اس لیے میرا یقین اس بات پر ہے کہ اگر ملک میں ایک بار الیکشن شفاف ہو گئے تو ملک کے 90فیصد مسائل حل ہو جائیں گے،، جب تک ہم اسمبلیوں عوام کو حصہ نہیں دیں گے، تب تک اشرافیہ اپنی مرضی کے بندے بٹھائے گی، تو وہی ہو گا جو گزشتہ دو سال سے اس ملک میں ہو رہا ہے،،، حالانکہ پوری دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ عوام کی منتخب حکومت حکومت کو اقتدار نہ دیا جائے،،، آپ امریکہ ہی کی مثال لے لیں، وہاں کی اسٹیبلشمنٹ لاکھ چاہتی تھی کہ ٹرمپ اقتدار میں نہ آئے ، مگر وہاں عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اُسے اقتدار میں آنا چاہیے،، تو وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عوام کے فیصلے کو قبول کیا۔ حالانکہ اُس کے فیصلوں سے جلد یا بدیر معاشی و زمینی جنگ چھڑ سکتی ہے، مگر اُسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،،، کیوں کہ اُسے عوام نے منتخب کیا ہے۔ لیکن یہاں فیصلہ کرنے والے انا اور ضد کی جنگ لڑے رہے ہیں،،، نہ وہ جھک رہا ہے اور نہ ان کی ہٹ دھرمی ختم ہو رہی ہے۔
تبھی بانی تحریک انصاف کریڈٹ کے مستحق ہیں جو ڈھائی سال سے پابند سلاسل ہیں، اور ان کے آگے جھکا نہیں ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہاں کی اسٹیبلشمنٹ کا بھی پہلی بار کسی ٹکر کے بندے سے پالا پڑا ہے، ورنہ یہ تو سب کو جھکا لیتے تھے،ہم یہ نہیں کہتے کہ بانی تحریک انصاف سو فیصد ٹھیک ہوں گے، ظاہر وہ انسان ہے، اُن سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گے، مجھے بھی اُس کے کئی سیاسی فیصلوں سے اختلاف رہا ہے،،، لیکن جس طرح بھٹو میں بھی ہزار غلطیاں تھیں اور اُس نے شہادت کا لبادہ اوڑھ کر ساری غلطیوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا بالکل اسی طرح بانی تحریک انصاف نے بھی اپنی ساری غلطیوں کا مداوا کردیا کہ وہ اپنی بات پر قائم رہا اوراُس نے اصول کی سیاست کی۔ کیوں کہ اُسے یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہیں بنا۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد فیصلہ کرنے والوں کو اتنا ٹف ٹائم کسی سیاستدان نے دیا؟ انہوں نے جسے چاہا حکومت سے نکال دیا، جسے چاہا حکومت میں لے آئے، جسے چاہا Tenureکو کم کر دیا جسے چاہا اقتدار کو طوالت بخشی، مگر ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ گزشتہ تین چار سال سے ایک بندے کو ہینڈل کیا جا رہا ہے، مگر مجال ہے وہ ان کی جھمیلوں میں آیا ہو، یا جھکا ہو۔ آپ اُس سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں، مگر یہ بات بھی اُس کی ماننا ہوگی کہ اُس نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔
بہرکیف ہم نے گزشتہ دو سالوں میں ملک کے 65فیصد عوام یعنی نوجوانوں کو سخت مایوس کر دیا ہے، اُنہیں اتنا باغی کر دیا ہے، کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی آج ملک سے بھاگ رہا ہے۔ حالانکہ یہی بچے تو اصل میں امیدِ پاکستان ہیں، جن کے پاس پچھلی نسلوں سے ماورا صلاحیت، زیادہ اہلیت اور وقت، تینوں بڑھ چڑھ کر ہیں۔لیکن ھل من مزید اور کثرت کی ہوس رکھنے والوں کے سارے خواب انہی نوجوانوں نے بکھیر ڈالے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ یہ ساری ایکسرسائز صرف ووٹ کو عزت دینے کے لیے کی گئی ہے یا ووٹر کو بھی؟ فرض کریں کہ کوئی پی ٹی آئی سے تمام سیٹیں چھین لے۔ کیا اس کے ذریعے ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے۔ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ سب کہتے ہیں میں سیاسی استحکام لاﺅں گا، لیکن جن 25کروڑ لوگوں کو سیاسی استحکام چاہیے، ان کا فیصلہ کیوں مسترد کیا جا رہا ہے۔ ایک اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ مانگے تانگے، چھینے جھپٹے، لوٹے اور ڈرائے ہوئے لوگ، کیا قوم کو لیڈ کرنے کے قابل ہوتے ہیں؟ وہ بھی بدترین بحران میں؟کبھی نہیں ! ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں جو بس سب سے جلدی لڑھکتی ہے، اسے 1984ءماڈل پرانے بیڈ فورڈ ٹرک کے چیسیز پر بنایا جاتا ہے جس کے ماتھے پہ ماڈل 2024ءلکھا ہوتا ہے۔ مستری جانتا ہے، بنانے والی کمپنی جانتی ہے، ڈرائیور کو چھوڑیں،انگریزی کا کنڈیکٹر‘ جسے اچھی اُردو میں سہولت کار کہتے ہیں، اسے بھی سب پتا ہوتا ہے کہ اس بس میں کچھ نیا نہیں،جس کے پائیدان پہ جلی لفظوں میں یہ نوٹس لکھتے ہیں:
”چلنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے‘ شاید یہ تیری زندگی کا آخری سفر ہو۔“
اور پھر اللہ نہ کرے ”سفر آخرت“ ہو بھی جایا کرتا ہے،،، اس لیے فیصلہ کرنے والوں کو پھر ہوش کے ناخن لینے چاہیے، اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سب کچھ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے،،، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ اور جب کچھ نہیں بچتا تو پھر ملک تباہ ہو جاتا ہے، ،، ہم پہلے ہی دنیا سے کم از کم 40سال پیچھے ہیں تو کیا عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرکے مزید پیچھے نہیں رہ جائیں گے،،، اس حوالے سے سوچیے گا ضرور!

