فیصل آباد( نمائندہ خصوصی) —انسدادِ دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق تین مقدمات میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں اور کارکنان سمیت 196 افراد کو سزائیں سنا دیں۔ ان میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف شبلی فراز، رکنِ قومی اسمبلی زرتاج گل، اور دیگر شامل ہیں، جنہیں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ غلام محمد آباد اور تھانہ سول لائن میں درج تین مقدمات — نمبر 1277، 832، اور 835 — میں 196 افراد کو مجموعی طور پر 10 سال تک قید کی سزائیں سنائیں، جب کہ متعدد افراد کو بری بھی کیا گیا۔
مقدمہ نمبر 1277 (تھانہ غلام محمد آباد): 67 ملزمان میں سے 60 کو سزا، 7 بری
مقدمہ نمبر 832 (تھانہ سول لائن): 108 میں سے 107 کو 10 سال قید، ایک کو 3 سال، 77 بری
مقدمہ نمبر 835 (تھانہ سول لائن): 32 میں سے 28 کو 10 سال قید، 4 بری
سزا پانے والوں میں نمایاں نام:
عمر ایوب (اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی)
شبلی فراز (سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف)
زرتاج گل (رکن قومی اسمبلی)
کنول شوزب، فرح آغا، رائے حیدر کھرل، محمد احمد چٹھہ
اشرف سوہنا، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ، چوہدری اقبال اعجاز، چوہدری آصف علی، شکیل احمد خان نیازی
دیگر رہنماؤں میں انشا اظہر، مہرمحمد جاوید، سردار عظیم اللہ خان، محمد انصر اقبال، شعبان کبیر، جنید افضل ساہی شامل ہیں۔
22 جولائی 2025: سرگودھا کی عدالت نے میانوالی کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے 32 رہنماؤں، بشمول ملک احمد بچھر، کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں، الیکشن کمیشن نے احمد بچھر کو نااہل قرار دے کر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا منصب خالی کر دیا۔
اسی روز لاہور: شیرپاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور سرفراز چیمہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جب کہ شاہ محمود قریشی سمیت چند ملزمان بری ہوئے۔
فوجی عدالتوں کے فیصلے:
21 دسمبر 2024: فوجی عدالت نے 25 افراد کو 10 سال قید کی سزا سنائی
26 دسمبر 2024: عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت 60 مجرمان کو 10 سال قید بامشقت
2 جنوری 2025: فوجی عدالت کی کورٹس آف اپیل نے 9 مئی کے 19 مجرموں کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کیا
9 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ ان مظاہروں میں سرکاری، فوجی اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ لاہور میں جناح ہاؤس پر حملہ، جی ایچ کیو راولپنڈی کے گیٹ کی توڑ پھوڑ اور دیگر پرتشدد کارروائیاں سامنے آئیں، جن میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے۔
ان واقعات کے بعد ملک گیر کریک ڈاؤن میں 1900 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور درجنوں مقدمات فوجی و انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں چلائے گئے۔عدالتی فیصلوں سے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر آئندہ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی عدالتی کارروائیاں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

