کاناناسکس؍البرٹا(اشرف خان لودھی سے )کینیڈا کے شہر کاناناسکس میں 15 سے 17 جون تک ہونے والے جی سیون (G7) سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے متعدد اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا، تاہم عالمی امن، توانائی کی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور ترقی پذیر ممالک کی امداد جیسے امور پر سنجیدہ گفتگو اور اصولی موقف سامنے آیا۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ سربراہی اجلاس ادھوراچھوڑکرواپس واشنگٹن روانہ ہوگئے ۔

کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کی میزبانی میں منعقدہ اس اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، اور یورپی یونین کے نمائندگان کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بعض مہمان ممالک کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
عالمی امن اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مستقل سیاسی حل کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔کینیڈا نے یوکرین کیلئے2 ارب کینیڈیائی ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا جس میں ڈرونز اور ہیلی کاپٹر شامل ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کے تحت، کینیڈا نے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا مقصد زرعی ترقی، خوراک کی قلت پر قابو پانا، اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، مصنوعی ذہانت کے اصولوں، اور ڈیجیٹل سلامتی پر تعاون کے نئے راستوں پر گفتگو کی گئی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان دو طرفہ ملاقات میں ہائی کمشنرز کی بحالی پر اتفاق کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اچانک روانگی اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے یوکرین پر عالمی یکجہتی کے اظہار میں رکاوٹ پیش آئی۔ بعض شرکاء نے اسے اجلاس کی مجموعی ہم آہنگی کیلئےنقصان دہ قرار دیا۔
اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم کی موجودگی پر کینیڈین سکھ برادری کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا جسے حکومت نے پُرامن جمہوری اظہار قرار دیا۔
اگرچہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا، تاہم کینیڈا کی قیادت میں اجلاس نے عالمی برادری کیلئےایک واضح پیغام دیا کہ دنیا کو درپیش بڑے چیلنجزجنگ، موسمیاتی بحران، خوراک و توانائی کی سلامتی کے حل کیلئےمربوط عالمی اقدام ناگزیر ہیں۔
یہ اجلاس مستقبل کی عالمی پالیسی تشکیل دینے کیلئےایک اہم موقع ثابت ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو درپیش چیلنجز کے باوجود کثیرالطرفہ مکالمہ اور تعاون جاری رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔

