بیجنگ(نمائندہ خصوصی+اے ایف پی)چین نے سیکیورٹی خدشات اور تکنیکی خودمختاری کے پیش نظر غیر ملکی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر، خصوصاً امریکی کمپنیوں کی مصنوعات پر انحصار کم کرنے کیلئےبڑے پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سرکاری اداروں میں مائیکروسافٹ ونڈوز سمیت غیر ملکی آپریٹنگ سسٹمز اور پروسیسرز جیسے انٹیل و اے ایم ڈی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت نے ملکی ساختہ سسٹمز، جیسے لینکس کی مقامی ڈسٹری بیوشنز اور ہواوے کے HarmonyOS کو فروغ دینے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
چینی حکومت نے اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کے حصول کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر حکومتی دفاتر اور اداروں میں مائیکروسافٹ ونڈوز اور دیگر غیر ملکی آپریٹنگ سسٹمز کے استعمال کی ممانعت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
حکام کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بیرونی رسائی اور مداخلت سے محفوظ بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، چینی حکومت نے انٹیل اور اے ایم ڈی جیسے غیر ملکی پروسیسرز پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور ان کی جگہ مقامی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
سرکاری دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو چین میں تیار کردہ لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹمز یا ہواوے کے HarmonyOS پر منتقل کریں۔ ماہرین کے مطابق، یہ پالیسی چین کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو تکنیکی خودکفالت کی جانب لے جانا ہے۔
واضح رہے کہ چین اس سے قبل بھی امریکہ کی بعض ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنے کیلئےمتعدد اقدامات کر چکا ہے، تاہم حالیہ پابندیاں اس سلسلے میں ایک بڑی پیشرفت سمجھی جا رہی ہیں۔

