ICC کے بعد ورلڈ ہاکی فیڈریشن بھی پاک بھارت میچ سے خزانہ بھرنے کو تیار

کرکٹ کے بعد ہاکی ورلڈ کپ میں بھی پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرہ طے پاگیا ورلڈ ہاکی کو ریکارڈ آمدن ہوگی
ایف آئی ایچ کے پاکستانی صدر طیب اکرام کو مبینہ طور پر میچ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جانے لگا
میچ کیلئے دونوں ملکوں کو حکومتوں کی اجازت درکار ہوگی، پاکستان حالیہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ
میں بھارت کیساتھ میچ کھیلنے سے انکار کرچکا، اب کی بار گیند بھارت کی کورٹ میں ہوگی

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) نے ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے میچز کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا۔عالمی سطح کا یہ میگا ایونٹ 15 اگست سے 30 اگست 2026 تک جاری رہے گا، جس میں دنیا کی بہترین ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے ایکشن میں نظر آئیں گی۔ تفصیلات کے مطابق، قومی ہاکی ٹیم عالمی کپ میں اپنے سفر کا آغاز 15 اگست (بروز ہفتہ) کو انگلینڈ کے خلاف میچ سے کرے گی۔ یہ میچ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹل وین کے مشہور ویگنر ہاکی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگا۔

قومی ٹیم اپنا دوسرا میچ 17 اگست (بروز پیر) کو ویلز کے خلاف کھیلے گی۔ یہ مقابلہ بھی ویگنر ہاکی سٹیڈیم میں شیڈول ہے اور پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اور ہائی وولٹیج مقابلہ 19 اگست (بروز بدھ) کو روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ شائقینِ ہاکی جس سنسنی خیز مقابلے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں، وہ ویگنر ہاکی سٹیڈیم، نیدرلینڈز میں پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے منعقد ہوگا۔ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے تمام مقابلے عالمی معیار کے مطابق جدید ترین سہولیات کے ساتھ منعقد کیے جائیں گے۔ ایونٹ کے شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی دنیا بھر کے شائقین خصوصاً پاک بھارت ٹاکرے کے حوالے سے جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا ہے۔ امید ہے کہ قومی ٹیم اس میگا ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کی امنگوں پر پورا اترے گی۔

کرکٹ کے بعد ہاکی ورلڈ کپ میں بھی پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرے سے ایف آئی ایچ کو ریکارڈ آمدن ہوگی، ایف آئی ایچ کے پاکستانی صدر طیب اکرام کو مبینہ طور پر میچ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جارہا ہے جس کیلئے پاک بھارت حکومتوں کی اجازت بھی درکار ہوگی، پاکستان حالیہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کیساتھ میچ کھیلنے سے انکار کرچکاتاہم اب کی بار گیند بھارت کی کورٹ میں ہوگی جو کرکٹ کی طرح ہاکی کو بھی سپانسر شپ کی بدولت کنٹرول کرتا ہے۔ پاکستان نے آٹھ سال بعد ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کیا ہے جسے ماضی کی نسبت کوالیفائنگ راؤنڈ میں آسان ٹیموں کے پول میں رکھا گیا تھا۔