“Pitching for Peace” کرکٹ نہیں امن،اور ثقافتی ہم آہنگی کا پیغام ہے:اقراء خالد

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) پارلیمنٹ ہل پر دوسری کرکٹ ایڈووکیسی ڈے منایاگیا، جس میں اراکین پارلیمنٹ، کامن ویلتھ کے سفیر اور طلبہ رہنما شریک ہوئے۔ تقریب میں پریس کانفرنس، رائیڈو ہال گراؤنڈز میں دوستانہ میچ اور شام کو پارلیمنٹ ہل پر استقبالیہ شامل تھا۔ میزبان رکن پارلیمنٹ اقراء خالد نے کہا کہ “پیس کیلئے پچ” صرف کرکٹ نہیں بلکہ امن، یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کا پیغام ہے۔

اوٹاوا میں پارلیمنٹ ہل پر “پیس کیلئےپچ” کے عنوان سے دوسری کرکٹ ایڈووکیسی ڈے منایاگیا ، جس میں کینیڈا کے اراکین پارلیمنٹ، کامن ویلتھ کے سفیر اور طلبہ رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر کینیڈا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کھیلوں میں شامل کرکٹ کو اجاگر کیا گیا اور اس کے مستقبل کیلئے زیادہ سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ ایونٹ مسی ساگا-ایرِن ملز کی رکن پارلیمنٹ اقراء خالد کی میزبانی میں کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن اور کینیڈین کالج اینڈ یونیورسٹی کرکٹ (CCUC) کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ دن بھر کی سرگرمیوں میں صبح پریس کانفرنس، رائیڈو ہال گراؤنڈز میں ہاؤس آف کامنز اور کامن ویلتھ ایمبیسیڈرز کے درمیان دوستانہ میچ، اور شام کو پارلیمنٹ ہل پر استقبالیہ شامل تھا۔

اقراء خالد نے کہا “پیس کیلئےپچ صرف کرکٹ کے بارے میں نہیں ہے۔ ایسے وقت میں جب ماحولیاتی ناانصافی اور پرتشدد تنازعات کمیونٹیز کو تقسیم کر رہے ہیں اور نوجوانوں سے امید چھین رہے ہیں، کرکٹ ایک اور راستہ فراہم کرتا ہے، ایک ایسا پل جو ثقافتوں کو جوڑتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ہنگامہ خیزی میں بھی کھیل وہاں اتحاد پیدا کر سکتا ہے جہاں سیاست ناکام ہو جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں تین لاکھ سے زائد افراد کرکٹ کھیل رہے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اس کھیل کو دیکھتے اور پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر حوصلہ افزائی کرے اور اس کھیل کو فروغ دینے کیلئےضروری ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے۔

اہم شرکاء میں چیئر آف کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن الیگزینڈرا مینڈس، اسپورٹس کیلئے پارلیمانی سیکرٹری ایڈم وین کووورڈن، وزیراعظم کے پارلیمانی سیکرٹری کوڈی بلواس، وزیر برائے خواتین و جینڈر ایکویلیٹی ریچی والڈیز، صدر ٹریژری بورڈ شفقت علی، کنزرویٹو ایم پی بریڈ وس اور دیگر اراکین پارلیمنٹ و سینیٹرز شامل تھے۔ اس موقع پر نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے سفارتکار بھی شریک ہوئے اور کرکٹ میچ میں حصہ لیا۔

کینیڈین کالج اینڈ یونیورسٹی کرکٹ (CCUC) کے صدر حسن مرزا نے قومی کرکٹ وفد کے ہمراہ وفاقی حکومت سے ایک عالمی معیار کے ملٹی پرپز انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایتھلیٹس کی ترقی، کمیونٹی انگیجمنٹ اور معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے خواتین کی شرکت میں 2028 تک 30 فیصد اضافہ کرنے کا بھی ہدف مقرر کیا اور کہا کہ کینیڈا کے اولمپک راستے کو مضبوط بنانے کیلئے ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور مقابلہ جاتی ڈھانچے ناگزیر ہیں۔

حسن مرزا نے کہا “کرکٹ کینیڈا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کھیلوں میں سے ایک ہے جو کمیونٹیز کو جوڑ رہی ہے اور نوجوانوں کو ملک بھر میں متحرک کر رہی ہے۔ ہم وفاقی شراکت داری چاہتے ہیں تاکہ اس کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکے، جس کا آغاز عالمی معیار کے ملٹی پرپز کرکٹ اسٹیڈیم سے ہوگا جو سیاحت کو فروغ دیگا، ملازمتیں پیدا کریگااور کینیڈا کو عالمی سطح پر اجاگر کریگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سرمایہ کار اور اسپانسرز اس عمل کیلئےتیار ہیں اور اگر حکومت قیادت کرے تو یہ شراکت داریاں ترقی کو تیز کر سکتی ہیں اور نوجوانوں اور خواتین کیلئےمواقع کو بڑھا سکتی ہیں۔

کرکٹ کی جڑیں کینیڈا کی تاریخ میں پیوست ہیں لیکن اس کی حالیہ مقبولیت میں اضافہ تارکین وطن کمیونٹیز اور یوتھ پروگرامز کے ذریعے برامپٹن، مسی ساگا، سوری اور کیلگری جیسے شہروں میں ہورہا ہے۔ کمیونٹی لیگوں اور اسکول پروگرامز میں ریکارڈ شرکت نے کرکٹ کو ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کھیلوں میں شامل کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو قائم رکھنے کیلئے وفاقی قیادت اور سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔

دن کا اختتامی مرحلہ پارلیمنٹرینز اور کامن ویلتھ سفیروں کے درمیان دوستانہ میچ تھا، جس نے ایونٹ کے پیغام کو اجاگر کیا۔ کئی اراکین پارلیمنٹ کیلئے یہ کرکٹ پچ پر پہلا تجربہ تھا، لیکن جیسا کہ اقراء خالد نے کہا “یہ یقیناً ان کا آخری تجربہ نہیں ہوگا۔” “پیس کیلئےپچ” تقریب نے کینیڈا میں کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور امن، ہم آہنگی و ترقی کے پیغام کو ایک نئی جہت دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں