آج کی ڈان اخبار کی میری خبر پنجاب کے سب سے طاقتور اور بااثر پولیس آفیسر راوالپنڈی کے CPO خالد ہمدانی صاحب کے حوالے سے ہے .اس خبر کے بعد نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب عبدل کریم صاحب کا امتحاں شروع ہو گیا ہے،انہوں نے آتے ہی بہت بڑا دعویٰ کیا کہ وہ شہریوں سے بدسلوکی برداشت نہیں کریں گے اور جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف بھر پور ایکشن ہو گا.
دیکھتے ہیں “جو بھی” میں PSPs بھی شامل ہیں یا صرف ڈرامے کی نئی قسط ہے .اب اس دعوے کے پس منظر میں جاتے ہیں، بات تو تلخ ہے لیکن برداشت کرنا پڑے گی .پولیس میں PSP اور rankers کے اختلافات کی دہائیوں سے چلتے آ رہے ہیں اور میں نے اس دونوں سروسز پر بہت لکھا ہے .ایک رینکر پولیس آفیسر نے کہا تھا چودھری صاحب یہاں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ترقیوں کی باری ہو یا سزا جزا کی PSP کو برہمن اور رینکر کو شودر تصور کیا جاتا ہے .مجھے اس کی بات میں کافی وزن لگا اور آج میں نے جو خبر دی اس میں آپ کو وہ جھلک نظر بھی آئے گی.
آئی جی پنجاب نے تعیناتی کے چند دن بعد لاہور میں صدر ڈویژن میں تعینات SP انویسٹیگیشن میاں معظم کو ٹھوک دیا، معطل کر کے کلوز کر دیا، سرگودھا کے رہائشی ایک شادی شدہ جوڑے نے سوشل میڈیا پر دوسری بار ویڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ لاہور گرین ٹاؤن پولیس نے ان کے خلاف ایک لڑکی کے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کیا پھر ان کے والدین، قریبی عزیز واقارب کے گھروں میں مسلسل raids کئے، طوفان بدتمیزی پیدا کی، ہمارے والدین کو اٹھا کر لاہور غیر قانونی حراست میں رکھا اور بدسلوکی کی.دوسری ویڈیو بناتے ہے ان کے لہجوں میں ایک قرب تھا کہ ہماری وجہ سے ہمارے والدین بہن بھائیوں، بچوں کو پولیس اذیت دے رہی ہے اور کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں نتیجہ ہولناک تھا کہ دونوں شادی شدہ جوڑے نے خودکشی کر لی اور خودکشی کی ویڈیو لائیو سوشل میڈیا پر دکھا دی .وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا، فیکٹ فائنڈنگ انکوائری پینل بنایا، موجودہ آئی جی پنجاب کو اس وقت ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ تھے ان کو بھی انکوائری پینل میں شامل کیا، اتنی بڑی انکوائری ایک رینکر کو رگڑا لگانے کے لئے بنا دی ، اچھی بات ہے۔
مجھے SP صاحب سے کوئی ہمدردی نہیں، ان کا اگر قصور اس سے بھی زیادہ ہے تو ان کو ہمیشہ کے لئےنوکری سے نکال دیں لیکن چوراہے پر ترازو پکڑ کر ڈندی نا ماریں، اپنے PSP کی کرتوتوں پر پردہ نا ڈالیں، میں نے اس SP والی خبر میں راولپنڈی کے CPO کو جوڑ دیا تا کہ پنجاب پولیس کے بڑوں کو بھی بتا دوں ڈرامے بازی نہیں چلے گی .راولپنڈی کے CPO خالد ہمدانی پر سنگین الزام عائد لئے گئے، شہری نے الزام لگایا کہ اس کا کاروباری لین دین تھا، ہمدانی کے کہنے پر ایک SHO کے زریعے اسے دھوکے سے تھانے بلایا گیا، وہاں اپنے بیٹے کے ساتھ پہنچا تو SHO کے زریعے اسے اغوا کرایا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے راولپنڈی ایک بلڈنگ میں لے جایا گیا جہاں اس پر تشدد کر کے متعدد چیکس بھر کر دستخط کرا لئے.
اس نے الزام لگایا کہ اس کا بیٹا بے یارو مددگار تھانے کے باہر کھڑا رہا .دو دن بعد اسے رہا کیا گیا اور کہا کہ اس کے پیچھے راولپنڈی کے CPO خالد ہمدانی ہیں.اس کے مطابق لین دین کے معاملے میں اسی تھانے میں تعینات ایک SHO نے انکوائری کی اور میری مخالف پارٹی کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے مخالف پارٹی کی درخواست خارج کر دی تھی، لیکن مجھے ٹھوکنے کے لئے اس SHO کو ٹرانسفر کر دیا اور اس کی جگہ مرضی کا SHO لایا گیا .یہ بڑے سنگین الزامات ہیں.خبر کے مطابق لاہور پہنچا، آئی جی آفس میں درخواست دی کہ اس کی انکوائری کسی سینئیر پولیس آفیسر سے کرائیں.کمال چتر چالاکی کی گی، آئی جی صاحب نے درخواست واپس راوالپنڈی بھیج دی اسی آفیسر کے پاس جس کے خلاف اغوا اور چیکس پر زبردستی دستخط کرانے کا الزام تھا.
ان کی معصومیت پر واری جائیں کہ ہمدانی صاحب کے پاس وہاں RPO کا بھی ایڈیشنل چارج ہے، جس آفیسر کو انکوائری بھیجی گی وہ ہمدانی صاحب کے ماتحت ہے ،سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا وہ ان کے خلاف انکوائری کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اگر انکوائری کرے بھی تو کیا وہ اپنے طاقتور باس کے خلاف لکھے گا آپ PSP کو بچائیں لیکن ایسے بھونڈے انداز میں نہیں، اپنا اور محکمے کا تماشہ نا لگائیں.
خبر کے مطابق جب وہی متاثرہ شخص آئی جی صاحب سے مایوس ہو کر محکمہ اینٹی کریپشن کے DG سہیل ظفر چٹھہ کے پاس گیا تو نئی کہانی شروع ہو گی .چٹھہ صاحب نے اس کی انکوائری کسی کو بھی mark کرنے سے انکار کر دیا ،میں نے چٹھہ صاحب سے پوچھا یہ کیا چکر ہے تو کہنے لگے بطور DG ان کے پاس گریڈ 19 یا اس سے سینئر آفیسر کے خلاف انکوائری کرنے کا اختیار ہی نہ ہے ،اس کے لئے چیف سکریٹری یا وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری چاہیے،لیکن اپنی تحقیق ان کے دعوے سے زیادہ ہی تیز تھی، میں نے خبر میں حوالہ دیا کہ حکومت نے ایک آرڈیننس کے تحت DG کے اختیارات محدود کر دئیے تھے اور وہ آرڈیننس اپنی مدت پوری کرنے کے بعد فروری 2025 میں ہی lapse کر گیا تھا یوں DG anti corruption گریڈ 19 کے آفیسر کے خلاف اوپر سے اجازت لئے بنا انکوائری بھی کر سکتے ہیں، FIR بھی لکھ سکتے ہیں اور انہیں گرفتار بھی کر سکتے ہیں لیکن کمال مہربانیاں ہیں PSPs کی اپنے PSP بھائیوں پر کہ وہ جو بھی غلط کاریاں کریں، قانون کی پاؤں تلے روند ڈالیں، جس کو چاہے ٹھوک دیں، چھترول کریں ان کے لئے محکمے میں ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ سب PSPs اپنے PSP بھائی کو بچانے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کر نے لگتے ہیں لیکن بات رینکر کی آئے تو چھینک آنے پر بھی سب سے پہلے معطلی کے احکامات جاری کر کے اس کی عزت نیلام کرتے بعد میں انکوائری کا حکم دے کر ایسے ہاتھ جھاڑتے جیسے کسی وفات پانے والے کو دفانے کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے ہاتھ جھاڑے جاتے ہیں.

