آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان متوقع طور پرکل حلف اٹھائینگے

ایف سی سی میں سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے 6 جج شامل کیے جائیں گے

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان متوقع طور پر وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court – ایف سی سی) کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس نئی عدالت کی حلف برداری کی تقریب کل (13 نومبر) متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی سی کے ابتدائی بینچ میں 6 دیگر جج شامل ہوں گے، جن میں 4 سپریم کورٹ اور 2 ہائی کورٹس سے لیے جائیں گے۔ ابتدائی ارکان کے طور پر جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس باقر نجفی (سپریم کورٹ)، جب کہ جسٹس کے کے آغا (سندھ ہائی کورٹ) اور جسٹس روزی خان بڑیچ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت چیف جسٹس ایف سی سی سے حلف لیں گے، جب کہ دیگر جج نئے تعینات ہونے والے چیف جسٹس سے حلف اٹھائیں گے۔ وزارت قانون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر مملکت وزیرِ اعظم کی سفارش پر باقاعدہ تقرری کے احکامات جاری کریں گے۔

وزارت قانون کے مطابق، مجوزہ ترمیم کے تحت صدر کو نئی تشکیل شدہ عدالت میں تقرریوں کے لیے آئینی اختیار حاصل ہوگا، جب کہ ابتدائی ججوں کی تعداد کا تعین صدارتی حکم کے ذریعے کیا جائے گا۔

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز 27ویں آئینی ترمیم کے عدالتی اصلاحاتی پیکج کے حصے کے طور پر دوبارہ پیش کی گئی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منظم کرنا، آئینی مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنانا، اور عدلیہ کی موثریت و وقار کو بڑھانا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق نئی عدالت کا مقصد سپریم کورٹ کے کام کے بوجھ کو کم کرنا اور آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے ایک خصوصی فورم فراہم کرنا ہے، تاکہ اعلیٰ عدالت اپنی اپیلیٹ ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دے سکے۔

ایف سی سی کا تصور نیا نہیں ہے۔ یہ خیال سب سے پہلے 2006ء کے چارٹر آف ڈیموکریسی (سی او ڈی) میں پیش کیا گیا تھا، جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے دستخط کیے تھے۔ اس وقت بھی تجویز دی گئی تھی کہ ایک علیحدہ عدالت قائم کی جائے جو صرف آئینی معاملات نمٹائے۔

یہ تجویز 26ویں آئینی ترمیم کے دوران بھی زیرِ بحث آئی تھی، تاہم سیاسی مزاحمت کے باعث مؤخر کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ایف سی سی کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی، جو سپریم کورٹ کے ججوں (65 سال) سے تین سال زیادہ ہے۔ نئی عدالت کا قیام اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت (FSC) کی موجودہ عمارت میں متوقع ہے، جب کہ شرعی عدالت کو عارضی طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کی تیسری منزل پر منتقل کیا جائے گا۔

شرعی عدالت کے ذرائع کے مطابق، جج صاحبان اپنی اچانک منتقلی سے ناخوش ہیں اور انہوں نے اپنے تحفظات چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے پیش کیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری آج (12 نومبر) 27ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے سکتے ہیں، جس کے بعد نئی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں