آج پاکستان میں بھارت کی آبی دہشت گردی ہی زیر بحث ہے، لیکن نجانے ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں پاکستان کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی بھارتی انتہاء پسند تنظیموں جن سنگھ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈوں نے مسلمانوں کا جو قتل عام شروع کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی بھارت ماتا کو ”مسلوں“ (مسلمانوں) سے پاک کرنے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
بھارت نے آبی دہشت گردی پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع کر دی تھی اور شاید ہم بھول گئے کہ قائداعظمؒ نے جب کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ کشمیر سے آنے والے دریا اور ان میں بہتا پانی پاکستان کی ”لائف لائن“ ہے۔ بھارت کی اسی آبی دہشت گردی کی وجہ سے سندھ طاس معاہدہ ہوا، جس کے تحت تین دریا پاکستان اور تین دریا بھارت کے حصے میں آئے۔ بھارت نے اپنے حصے کے دریاؤں کو اس طرح ”نچوڑا“ ہے کہ پاکستان کے لئے ان دریاؤں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔وہ راوی جہاں کبھی ہم نے تین لاکھ کیوسک پانی کا سیلاب دیکھا تھا اگر اس راوی میں آج لاہور کے ڈیڑھ کروڑ شہریوں کا استعمال شدہ گندا پانی نہ پھینکا جائے تو راوی خشک ہو جائے۔ دریائے ستلج میں بھی اگر بھارت کے پاس غلطی سے کچھ پانی بچ جائے تو وہ آ جاتا ہے۔ بیاس نام کا کوئی دریا بھی تھا آج پاکستان کی نئی نسل کو یاد بھی نہیں ہے۔ بھارت نے اپنے حصے کے دریاؤں کے بعد ہمارے دریاؤں پر بگلیہار ڈیم، کشن گنگا ڈیم اور رتلے ڈیم بنا ڈالے جو کہ معاہدے کی خلاف ورزی تھے اور ہماری حکومتیں اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ اب بھارت نے پہلگام (مقبوضہ کشمیر) میں ”خود کردہ دہشت گردی“ کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو بلا جواز معطل کیا ہے۔ تو ہم پریشان ہیں کہ بھارت ہمارا پانی روک لے گا۔ بھارت پانی روکے گا کیا وہ تو پہلے سے ہی یہ کام کر رہا ہے۔ اب تو وہ جب چاہتا ہے اپنے ڈیموں سے پانی جاری کر کے ہمارے ہاں مسائل پیدا کرتا ہے۔یہ کام وہ گزشتہ 10 دن میں دو بار کر چکا ہے۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب میں اچانک بڑے ریلے بھیج کر اس نے ہمیں اپنی شر انگیزیوں کی تصویر دکھا دی ہے۔ بھارت یہ دھمکی بھی دے رہا ہے کہ وہ پہلگام کا بدلہ کہیں بھی لے سکتا ہے۔ یہ کھیل وہ پہلے بھی کھیل چکا ہے، جس کا جواب اسے پاکستانی فضائیہ نے اس کے دو طیارے گرا کر اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے دیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت ہمارے کچھ عاقبت نا اندیش سیاست دانوں نے اپنے ہی ملک اور فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ ایک بڑے سیاستدان نے یہ بیان داغا کہ ”اس رات“ پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ میٹنگ میں تشریف لائے تھے تو ان کے ماتھے پر پسینہ تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔یہ ایک ایسا شرمناک بیان تھا جو محب وطن پاکستانیوں کو آج بھی تکلیف دیتا ہے۔ اپنی ”پارٹی قیادت کے دوست مودی جی“ کو خوش کرنے کے لئے یا قیدی نمبر 804 کی دشمنی میں اپنے ملک کے فوجی سربراہ کو وہ کچھ کہہ ڈالا جو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ بہرحال اس دفعہ اُمید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اس دفعہ کچھ اچھی خبریں بھی مل رہی ہیں۔ بھارت کی تازہ آبی دہشت گردی کے بعد بنگلہ دیش بارڈر سکیورٹی فورس کے سابق سربراہ میجر جنرل فضل الرحمن کا ایک بیان سامنے آیا ہے جو بھارت کے لئے یقینا پریشان کن ہے۔ جنرل فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر پاک بھارت جنگ ہو تو بنگلہ دیش کو چاہئے کہ بھارت پر حملہ کرے اور چھ ریاستوں آسام، تریپورہ، میزو رام،منی پور، ناگالینڈ اور میگھالیہ پر قبضہ کر لے۔ان چھ ریاستوں میں کئی دہائیوں سے بھارت سے علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ اگر بنگلہ دیش ان چھ ریاستوں کا راستہ کاٹ دے تو بھارت کے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا اور جنرل فضل الرحمان کے مطابق اس کام کے لئے بنگلہ دیش کو چین کی مدد مل سکتی ہے۔ یہ کھلی جنگ ہو گی کیا بنگلہ دیش یہ ”افورڈ“ کر لے گا۔
بھارت جس جنگ کی دھمکی دے رہا ہے وہ کوئی طویل جنگ ممکن نظر نہیں آتی،کیونکہ اس کا انجام بہت خوفناک ہو گا۔ گلوبل فائر پاور کی طرف سے جاری پاکستان اور بھارت کی فوجوں کا تقابل دیکھیں تو ہماری فوج ”ہماری جسامت“ کے مطابق کم بھی نہیں ہے۔ بھارت دنیا کی پانچویں اور پاکستان بارہویں بڑی فوجی قوت ہے۔ دونوں کے پاس دوسرے ملک کے عوام کو خون میں نہلانے کی پوری صلاحیت ہے۔ تاہم گزشتہ دو تین دہائیوں سے جنگ اب تبدیل ہو گئی ہے جنگ اب میزائلوں کے ذریعے لڑی جاتی ہے اور اس میدان میں دونوں ملکوں نے خاصی ترقی کی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس ایک دوسرے کے ہر شہر کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں۔ بات تو آگ اور خون کے اس کھیل کی ہے جو میزائلوں کی جنگ کے بعد شروع ہو گا۔ پاکستان اور بھارت نے آج تک کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی ہمیشہ محدود لڑائیاں لڑی ہیں چاہے وہ 1948ء کی جنگ ہو 1965ء، 1971ء، یا پھر 1999ء کی ایک محدود جنگ تھی۔آج دنیا کو خطرہ صرف ایک ہے کہ اگر یہ دونوں ایٹمی طاقتیں دو مینڈھوں کی طرح سینگ پھنسا بیٹھیں تو دنیا کا کیا ہو گا۔ یہی آج سوچنے کی ضرورت ہے۔ سرحد کے دونوں طرف دانشوروں کو خاص طور پر بھارت میں دانشوروں اور کانگرس اور دیگر پارٹیوں کو سوچنا ہو گا کہ مودی جی اور ان جیسی دیگر انتہاء پسند قیادت جو 80 سال سے پاکستان کو مٹانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ مانا ایک دفعہ پاکستان کو دو ٹکڑے کر کے اندرا گاندھی نے خواب پورا کیا، لیکن آج بھی بنگلہ دیش طاقتور مسلمان ملک ہے۔ بھارت اور اس کے مودی جیسے مسلمان دشمن لیڈروں کو یہ سوچنا ہو گا کہ اگر جنگ پھیل گئی تو پھر کیا ہو گا اور اس علاقے کا نقشہ کیا ہو گا کیا ہم بھول گئے کہ دوسری اور پہلی عالمی جنگ میں یورپ کے آج کے مہذب ملکوں کے کروڑوں لوگ مارے گئے تھے کیا بھول گئے کہ ہیروشیما ناگاساکی میں کیا ہوا تھا۔ ہم ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ پر بیٹھے ہیں اس کو پھٹنے سے روکنا ہے،کیونکہ پھر خطے میں انسانیت روئے گی۔

