مظفرآباد / اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)آزاد جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے نمائندوں سے باضابطہ مذاکرات کیلئےمظفرآباد پہنچ گیا۔ مذاکرات کا مقصد خطے میں جاری احتجاج اور پُرتشدد واقعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔
وفاقی وزرا طارق فضل چوہدری، احسن اقبال، سردار یوسف، سابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ اس مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہیں۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ روز سے خصوصی مراعات اور مہاجرین کیلئے مخصوص نشستوں پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی، جس کے نتیجے میں احتجاج اور پُرتشدد واقعات پھوٹ پڑے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق اور وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد میں مذاکراتی کمیٹی بھیجنے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان میں امن اور استحکام خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حکومت آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ سینیٹر رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائیگی تاکہ کشیدگی ختم ہو۔ امیر مقام نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت دی۔
اسی دوران وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں صورتحال کو قابو پانے اور عوامی تحفظ کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا۔حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے خطے میں پُرامن حل کی امید بڑھ گئی ہے، اور توقع ہے کہ بات چیت کے ذریعے عوام کے مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔

