آسٹریلیا: امیگریشن مخالف ریلیاں، حکومت نے نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دے دیا

کینبرا/سڈنی (رائٹرز) – آسٹریلیا کے مختلف بڑے شہروں کینبرا، سڈنی، پرتھ اور برسبین میں اتوار کے روز ہزاروں افراد نے امیگریشن کے خلاف ریلیوں میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ’اجتماعی امیگریشن‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا، تاہم حکومت نے ان ریلیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں نسل پرستی اور نفرت انگیزی کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا۔

وزیر برائے کثیرالثقافتی امور این علی نے کہا کہ یہ اجتماعات نازی گروہوں کے زیرِ انتظام منعقد کیے گئے تھے۔وزیر زراعت مرے واٹ نے کہا”یہ ریلیاں سماجی ہم آہنگی کے لیے نہیں بلکہ نفرت اور تقسیم پھیلانے کے لیے ہیں، ہم ان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔”

’مارچ فار آسٹریلیا‘ کے بینر تلے منظم ان ریلیوں میں شریک گروپوں نے دعویٰ کیا کہ اجتماعی امیگریشن نے کمیونٹیز کو جوڑنے والے رشتے توڑ دیے ہیں۔امیگریشن کی وجہ سے ثقافت، اجرتوں، ٹریفک، رہائش، پانی کی فراہمی، ماحولیات، انفراسٹرکچر، اسپتالوں اور جرائم کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی دھارے کے سیاستدانوں میں اس موضوع پر بات کرنے کی “ہمت نہیں ہے”۔

آسٹریلیا نے رواں سال نئے قوانین متعارف کروائے ہیں جن کے تحت نازی سیلوٹ اور دہشت گرد گروپوں سے منسلک علامات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔یہ اقدام اکتوبر 2023 میں اسرائیل-غزہ جنگ کے بعد بڑھنے والے یہودی مخالف حملوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں