آسٹریلیا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان، نیوزی لینڈ بھی ممکنہ طور پر شریک

کینبرا (اے ایف پی/الجزیرہ) آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے سخت تنقید کا باعث بنا، جبکہ نیوزی لینڈ کے بھی اسی پالیسی پر غور کرنے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِاعظم البانیز نے پیر کے روز کینبرا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آسٹریلیا یہ اعلان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “دو ریاستی حل انسانیت کی بہترین امید ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے چکر کو توڑا جا سکے اور غزہ میں جاری تنازع، تکالیف اور قحط کو ختم کیا جا سکے”۔

آسٹریلیا کے اس فیصلے سے قبل کینیڈا، فرانس اور برطانیہ بھی اگلے ماہ ہونے والے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ اسرائیلی سفیر امیر میمون نے آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس یکطرفہ تسلیم کو قبول نہیں کرتے”۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی اسے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد حماس کیلئے”انعام” قرار دیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے آسٹریلیا میں لاکھوں افراد نے سڈنی ہاربر برج پر مارچ کرتے ہوئے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ “خطرہ ہے کہ فلسطین باقی نہ رہے جسے تسلیم کیا جا سکے”۔

اپوزیشن لبرل پارٹی نے اس فیصلے کو امریکا کی پالیسی سے انحراف قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ جب تک حماس غزہ پر قابض ہے اور مغوی زیرِ زمین ہیں، تسلیم کرنا حماس کو اسٹریٹیجک فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ لبرل پارٹی کی رہنما سوسن لی کے مطابق یہ فیصلہ “حماس کے 7 اکتوبر کے دہشت گرد حملے کے مقاصد میں سے ایک کو پورا کر سکتا ہے”۔

آسٹریلوی گرینز پارٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا مگر اسے عوامی مطالبات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا، جبکہ آسٹریلین فلسطین ایڈووکیسی نیٹ ورک نے اسے “سیاسی پردہ” اور اسرائیلی جنگی جرائم میں شراکت سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔

وزیرِاعظم البانیز کے مطابق آسٹریلیا کا یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی سے حاصل شدہ “اہم اور تفصیلی یقین دہانیوں” پر مبنی ہے، جن میں اسرائیل کے حقِ وجود کو تسلیم کرنا، غیر عسکریت پسندی اور عام انتخابات کرانے کا وعدہ شامل ہے۔ فلسطینی اتھارٹی 1990 کی دہائی کے وسط سے مغربی کنارے کے بعض علاقوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے مگر 2006 کے بعد سے کوئی پارلیمانی انتخابات نہیں ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں