ریاست پاکستان کو انڈیا یا افغانستان سے دشمنی کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دن یہ آف لوڈ ہونے والے پاکستانی نوجوان خود ہی خودکش بمبار بن کر پاکستان کے ہر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پھٹیں گے۔
ایک طرف تو پاکستان میں روزگار اور ترقی کے ذرائع محدود ہیں۔ دوسری طرف جب ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لئے، اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کرکے ملک سے باہر جانا چاہتا ہے تو باہر جانے کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خاموشی کے ساتھ پاکستان کو نارتھ کوریا بنانے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔
غربت ، بدحالی اور اپنے مستقبل سے مایوس نوجوان اگر قانونی تقاضے پورے کرکے یا کوئی جگاڑ لگا کر ، کسی بیرونی ملک کا ویزہ لے کر بہتر مستقبل کی امید میں اپنے مال مویشی، ماں کے زیور ، زمین کا ٹکڑا بیچ کر ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا بندوبست کرکے ائر پورٹ پہونچتے ہیں، تو یہ ایف آئے اے کے رشوت خور افسران ان نوجوانوں کے ارمانوں کا خون کرکے انہیں آف لوڈ کرکے گھر واپس بھیج دیتے ہیں۔ ایف آئی اے کے افسران کا یہ رویہ غیر مہذب، غیر آئینی، غیر قانونی, غیر منطقی, اور غیر اخلاقی ہے۔
آئین پاکستان میں دی گئی ضمانتوں کے تحت اگر کوئی نوجوان اپنا مستقبل بہتر بنانے اور بہتر ذریعہ معاش اپنانے کے لئے قانونی تقاضے پورے کرکے ملک سے باہر جانا چاہتا ہے تو اسے کیوں آف لوڈ کیا جاتا ہے؟
ارباب اختیار ایف آئی اے افسران کی اس بدمعاشی کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟
حکومت نے مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی ہے؟
ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نے اب تک اس معاملے پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی ہے؟
سول سوسائٹی اور سماجی رہنما اس ظلم پر آواز کیوں نہیں اٹھا رہے ہیں؟
اعلیٰ عدالتیں اس ظلم و ناانصافی پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیتی ہیں؟
جب ریاست روزگار، تحفظ، سہولتیں اور انصاف نہ دے سکے تو پھر لوگوں کے ہجرت کرنے کو جرم کہنا کہاں کا انصاف ہے؟
ملک کے ہوائی اڈوں پر جس قدر بے رحمی کے ساتھ نوجوانوں کو آف لوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سے ملک کے نوجوانوں میں فرسٹریشن اور مایوسی انتہا درجہ کو پہونچی ہوئی ہے۔ نوجوان اب اپنے ملک پاکستان کو نارتھ کوریا کی طرح ایک جیل سمجھنے لگے ہیں۔
ایئرپورٹ سے واپس بھیجے جانے والے نوجوانوں کے چہروں پر مایوسی کی گہری لکیریں ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کو ایک خاموش معاشرتی بحران میں مبتلا کررہی ہیں۔
نوجوانوں کے آف لوڈ ہونے کا اثر صرف نوجوانوں پر ہی نہیں، بلکہ ان کے گھر والوں، عزیز رشتہ داروں اور پورے سماج پر پڑ رہا ہے۔ ایک خاندان اپنی تمام جمع پونجی ایک بچے کے ہاتھ میں دیتا ہے کہ وہ باہر جا کر محنت کرے گا، گھر کے حالات بہتر کرے گا، بہنوں کی شادی ہوگی، چھوٹے بھائیوں کی تعلیم ممکن ہوگی۔ جب یہی نوجوان آف لوڈ ہو کر گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اکیلا نہیں آتا،اس کے ساتھ والدین کی امیدیں، بہنوں کے ارمان، اور ایک خاندان کی برسوں کی محنت بھی مایوسی کی شکل میں گھر میں داخل ہوتی ہے۔ والدین کی آنکھیں سوال کرتی ہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، مگر نوجوان خود بھی نہیں جانتا کہ اس کا قصور کیا تھا۔
آف لوڈنگ کے عمل کا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں۔ صرف ایف آئی اے کے افسران کے صوابدیدی اختیارات اور شک کی بنیاد پر یہ سارا عمل انجام دیا جارہا ہے۔ اور اس غیر منطقی شک کی بنیاد ان افسران کی ذہنی کیفیات ہوتی ہیں۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس کا سائنسی طریقہ کار نہیں ہوتا۔ ویزہ اصلی ہے یا جعلی اس کی تصدیق ایک آن لائن پورٹل بنا کر اور تمام غیر ملکی سفارت خانوں کو اس نظام سے منسلک کرکے منٹوں ، سیکنڈوں میں کی جاسکتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں امیگریشن کا عمل مکمل طور پر ڈیٹا، ریکارڈ اور ثبوت پر مبنی ہوتاہے۔ وہاں کوئی افسر اپنی خواہش ، شبہ ، شک، یا صوابدیدی اختیارات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔
آن لائن پورٹل پر فلائیٹ سے 48 گھنٹہ قبل تمام دستاویزات، ٹکٹ، ویزہ، پاسپورٹ وغیرہ اسکین کرکے اپلوڈ کروایا جاسکتا ہے۔ اور ویزہ کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق بھی اس ہی 48 گھنٹہ قبل از فلائیٹ ٹائم میں ممکن ہو سکتی ہے۔ ہر مسئلے کا سائنسی حل موجود ہے۔
قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئےایف آئی اے کی جانب سے گائیڈ لائنز جاری کی جا سکتی ہیں۔ مگر صرف شک کی بنیاد پر نوجوانوں کے مستقبل کو برباد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس پورے بحران نے ایک اور خطرناک رجحان کو جنم دیا ہے،اور وہ ہے نوجوانوں میں ریاست پر عدم اعتماد۔
جب ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوان ملک کے اندر اپنے لیے جگہ نہیں دیکھتا، باہر جانا چاہتا ہے اور اسے وہاں بھی دیوار سے لگا دیا جاتا ہے تو پھر وہ ریاست کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔ یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے کیونکہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اور جب مستقبل بدگمان ہو جائے تو قوم کی سمت بدل جاتی ہے۔ نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس اور فرسٹریشن کا شکار ہو رہے ہیں ۔ نوجوانوں میں ریاست پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں یہ نوجوان بڑی آسانی کے ساتھ ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن سکتے ہیں اور ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر پاکستان میں بڑی تباہی اور بربادی پھیلا سکتے ہیں۔
میرے منہ میں خاک، اگر ایسا ہوگیا، تو یہ ملک کے لئے بہت خطرناک ہوگا اور اس کی زمہ داری ریاست، حکومت، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی پر ہوگی۔ میں اپنی تیسری آنکھ ( شعوری نظر) سے پاکستان میں آنے والی تباہی اور بربادی کا بڑا بھیانک منظر دیکھ رہا ہوں۔ خدا کرے کہ یہ سب میری خام خیالی اور پاگل پن ہو۔ خدا میرے ملک پاکستان کو مزید برباد ہونے سے بچائے۔ آمین۔ پاکستان زندہ باد

