پاکستان ٹیلی ویژن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے بڑے ہی اچھے اچھے پروگرام اور ڈرامے پیش کئے، پی ٹی وی کے متعدد پروگرام ایسے ہیں جو آج بھی دیکھے جائیں تو وہی لطف دیتے ہیں جو پہلی نشریات کے دور میں تھا جہاں تک ڈراموں اور ڈرامہ سیریلز کا تعلق ہے تو لوگ کام چھوڑ کر دیکھا کرتے تھے انہی پروگراموں میں ایک ففٹی ففٹی تھا جس میں بڑے معروف اداکار ہنر کا مظاہرہ کرتے تھے، ان میں سے دو پروگرام مجھے یاد آ رہے ہیں۔ ایک تو موصوف (اداکار) رکشے میں بیٹھا، سیکیورٹی چیک (پولیس چوکی) سے گزرتا ہے۔ یہاں موجود اہلکار اس کی باقاعدہ تلاشی لے کر جانے دیتے ہیں اور پھر کیمرہ دکھاتا ہے کہ رکشے کی چھت پر توپ بندھی تھی اور وہ لے کر گزر جاتا ہے۔ اسی طرح ایک پروگرام ہماری کرکٹ ٹیم کے حوالے سے بھی یاد آ رہا ہے کہ پیویلین میں پیڈ باندھے بیٹر (تب بیٹسمین) بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگا رہا ہوتا ہے، اتنے میں گراؤنڈ میں کھیلنے والا کھلاڑی آؤٹ ہو جاتا ہے،باری کے انتظار والا اپنا سگریٹ ساتھی کھلاڑی کو دے کر کہتا ہے۔ پکڑو، میں ابھی آیا، یہ اس دور کی بات اور طنز ہے جب پاکستان کرکٹ پر آج جیسا ہی دور تھا اور کھلاڑی غیر متوقع طور پر شکست قبول کرلیتے تھے، تب بھی بڑی تنقید ہوتی تھی اور ہم بھی اس میں پیش پیش رہتے تھے، ان دنوں نہ تو لیگ کرکٹ ہوتی اور نہ ہی کھلاڑیوں کو کوئی بڑے معاوضے ملتے تھے البتہ کاؤنٹی کرکٹ کے لئے پاکستانی کھلاڑی برطانوی کاؤنٹیوں کے لئے ضرور منتخب ہوتے تھے۔ ویسے بھی پاکستان کو عبدالحفیظ کاردار اور عمران خان جیسے کھلاڑی بھی ملے جو آکسفورڈ یونیورسٹی ٹیم میں کھیلے تھے۔ عبدالحفیظ کاردار تو کپتان بھی رہے اور متحدہ برصغیر کی کرکٹ ٹیم کے بھی ممبر تھے، پاکستان کرکٹ ٹیم نے حنیف برادران، امتیاز احمد، سعید احمد، انتخاب عالم، فضل محمود، خان محمد اور شجاع الدین جیسے کھلاڑی بھی میدان میں اتارے۔
یہ سب مجھے آج جنوبی افریقہ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے دوسرے ٹیسٹ میچ کا اختتام اور کھیل دیکھ کر یاد آیا کہ ففٹی ففٹی والے پروگرام ہی کی صورت حال تھی کہ تو چل میں آیا والی بات ہوئی اور ایک کے بعد ایک بیٹر واپس پیویلین آتا رہا، تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک بابر اعظم اور رضوان کریز پر تھے لیکن چوتھے روز وہ بھی کوئی کارنامہ سرانجام نہ دے سکے۔ بابر پچاس رنز مکمل کرکے واپس چلے گئے اور پھر توقع ہی ختم ہو گئی اور جنوبی افریقہ نے یہ ٹیسٹ میچ 8وکٹوں کے بڑے مارجن سے جیت کر دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز برابر کردی اور پہلے ٹیسٹ میچ کے جیتنے پر ہم اپنے ہیروز کی جتنی تعریف اور پہلا نمبر والی بات کررہے تھے وہ سب دھری کی دھری رہ گئی، ٹیسٹ چیمپئن ٹیم نے توجہ، حوصلے اور ہنر سے دوسرا ٹیسٹ جیت کر ثابت کر دیا کہ وہ واقعی چیمپئن اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔
کوئی اور بات کرنے سے پہلے میں اپنے منتظمین خصوصاً لاہور قلندر والے، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کی بات کروں گا جنہوں نے سپن میں کمزور ٹیم کے خلاف سپن وکٹیں بنوا کر ماضی میں سیریز جیت لی تھی، اس بار بھی آپ جناب کی سخت ہدایات اور نگرانی میں یہی کیا گیا، میڈیا نے انہی کے ذرائع سے ٹِپ لے کر یہ تاثر دیا کہ پاکستان کرکٹ کی انتظامیہ نے جنوبی افریقہ کو سپن باؤلنگ کے جال میں پھنسانے کا فیصلہ کرلیا اور پھر یہ پہلے ٹیسٹ میچ میں ایسا ہی ہوا، پاکستان نے یہ میچ جیت کر ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم یہ میچ بھی لڑ کر ہی ہاری تھی اور کپتان مارکرم نے کہا تھا دوسرے میچ میں سیریز برابر کرنے کی کوشش کریں گے اور انہوں نے ایسا کر دکھایا۔
دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی وکٹ سپنرز کے لئے ہی ساز گار تھی تاہم اس میں فرق توجہ اور ہنر کا ثابت ہوا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اچھے سٹارٹ کے بعد سکور زیادہ نہ کر سکی اور 333رنز تک ہی پہنچی جو بظاہر معقول نظر آ رہے تھے اور اس کا ثبوت یہ تھا کہ جنوبی افریقہ کی آٹھ وکٹیں 235رنز تک گر چکی تھیں، لیکن آخری دو وکٹوں نے کمال کیا اور کھلاڑیوں نے نہ صرف پاکستان کی لیڈ ختم کی بلکہ آخر میں 109 سکور کرکے سکور چار سوچار تک پہنچا دیا اور پاکستان ٹیم کو 71رنز کے خسارے یعنی لیڈ کے مقابلے میں بیٹنگ کرنا پڑی اور پھر شکاری خود شکار ہو گیا اور تو چل میں آیا والا سلسلہ چل نکلااپر بیٹنگ فلاپ ہوئی۔ بابراعظم اور رضوان نے تیسرا روز نکال لیا اور چوتھا روز جنوبی افریقہ کے نام کر دیا،یوں حریف کو صرف 68رنز کا ہدف دیا جو اس نے دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر دیا گیا۔
شکست اور فتح کے اپنے ہی انداز اور موڈ ہوتے ہیں، اب ماہرین (سابق بڑے کھلاڑی) ٹیلی ویژن سکرینوں پر بیٹھ کر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں حالانکہ یہی حضرات پہلے میچ اور ٹیم کی سلیکشن پر اپنے اپنے موقف کے مطابق بات کررہے تھے، البتہ یہ سب مجموعی طور پر ٹیم کی سلیکشن کارکردگی اور عاقب جاوید کے رویے سے پریشان دکھائی دیئے سب نے اپنے اپنے طور پر سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں کو غلط قرار دیا تھا اور اب ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز سے کہیں پہلے ٹیسٹ کے دوران ہی ہنگامی طور پر فیصلہ کرکے اعلان کر دیا گیا اور رضوان کو ”ناقص کارکردگی“ کے الزام میں کپتانی سے الگ کر کے ”بہترین کارکردگی“کی بناء پر شاہین آفریدی کو تین میچوں کی سیریز کے لئے کپتان مقرر کر دیا، اب یہ بھی علم نہیں کہ ان کو صرف اس سیریز تک محدود رکھاہے یا پھر مستقل کر دیا ہے جب تک ان کی قسمت ساتھ دے سکے۔
عاقب جاوید کا دعویٰ ہے کہ ٹیم کی سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے اور جو کارکردگی دکھائے گا وہی کھیلے گا لیکن ٹی 20کے کپتان سلمان آغا کے حوالے سے خاموش ہیں،ان کی قیادت میں ٹیم ایشیا کپ ٹرافی میں بُری طرح ہاری اور تین میچوں میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے زخم کھائے۔خود سلمان آغا کی اپنی کارکردگی بھی سامنے ہے۔ اس لئے عاقب جاوید والا میرٹ والا دعویٰ اسی سے ثابت ہو جاتا ہے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ سب پس پردہ سازش کا کھیل اور بابراعظم گروپ کی چھٹی کرانے کا سلسلہ ہے۔ منتظمین نے کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر نفسیاتی مریض بنا دیا وہ غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر کھیل پر توجہ مرکوز نہیں کر پائے اور پھر اگر سپن وکٹیں تیار کرکے ایک فاسٹ باؤلر سے کھیلنے پر یہ حال ہوا ہے تو دوسرے ممالک میں سپورٹنگ، تیز اور باؤنسی وکٹوں پر کون کھیلے گا بہتر ہوگا کہ اب عاقب جاوید سمیت پوری سلیکشن کمیٹی ہی پیڈ کرلے۔ باقی اللہ مالک ہے۔

