دوحہ/بغداد( رائٹرز، اے ایف پی، ایکسیوس، تسنیم، مہر، پریس ٹی وی، ٹیلی گراف، سی این این)ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے خلاف ایک بڑا حملہ کرتے ہوئے قطر اور عراق میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت نے اس آپریشن کو ’’بشارتِ فتح‘‘ کا نام دیا ہے، جس میں ’’یا ابا عبداللہ‘‘ کا کوڈ استعمال کیا گیا۔
دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں، العدید بیس کو نشانہ بنایا گیا
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایکسئیوس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے بارے میں ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ یہ ایران کی جانب سے داغے گئے چھ میزائلوں کا نتیجہ تھے۔
ایرانی افواج کے مطابق انہوں نے قطر میں امریکی فضائیہ کے مرکزی اڈے العدید (Al-Udeid) کو ’’تباہ کن اور طاقتور‘‘ میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔
عراق میں بھی امریکی تنصیبات پر حملے
ایران کی مہر نیوز ایجنسی اور تسنیم کے مطابق حملے عراق میں امریکی اڈوں پر بھی کیے گئے۔ عراقی تنصیبات کی تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی گئیں تاہم ایرانی فوج کے مطابق ان تمام اہداف کو وہی تعداد میں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جتنی بمباری امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر کی تھی۔
پریس ٹی وی کے مطابق حملے کے فوراً بعد قطر کے العدید بیس اور عراق میں موجود امریکی فوجیوں نے پناہ گاہوں کا رخ کیا، جب کہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
امریکی عہدیدار کی تصدیق: درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل
نشریاتی ادارے سی این این نے ایک امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کیا گیا۔ابھی تک امریکی ہلاکتوں یا زخمیوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر ’’قریبی نظر‘‘ رکھے ہوئے ہیں۔
قطر کی جانب سے شدید مذمت، ردعمل کا عندیہ
قطر نے امریکی اڈے پر حملے کو ’’خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ دوحہ حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس حملے کا ’’براہِ راست جواب دینے کا حق‘‘ محفوظ رکھتی ہے۔
ایران: قطر کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام نے قطر کو حملے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔ تین ایرانی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ حملے قطری حکام کے ساتھ ’’ہم آہنگی‘‘ کے تحت کیے گئے۔
پروازیں معطل، سفارتخانوں کی وارننگز
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے حملے کے بعد قطر نے ملک بھر میں فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی۔ متعدد مغربی سفارتخانوں نے دوحہ میں مقیم اپنے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا۔
یو اے ای نے بھی فضائی حدود بند کی
رائٹرز کے مطابق، فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے، جو خطے میں خطرناک پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
العدید بیس: امریکی سینٹکام کا صدر دفتر
العدید بیس مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا صدر دفتر ہے جہاں امریکی اور برطانوی فوجی اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ حملے سے قبل یہاں سے متعدد طیارے منتقل کیے جا چکے تھے۔

