مجموعی طور پر اس وقت پنجاب میں اچھے افسر کام کر رہے ہیں،کیونکہ پوسٹنگ ٹرانسفر کے لئے ایک سیٹ طریقہ کار پر عمل ہو رہا ہے، اب ہر میجر پوسٹ پر تعیناتی کے لئے افسروں کے باقاعدہ پینل بنتے ہیں،انکا سابقہ پوسٹنگ چارٹ ساتھ لگتا ہے ، چیف سیکرٹری کے بعد چیف منسٹر کے ساتھ ان کا انٹرویو ہوتا ہے ،اسی لئے تعیناتی کے بعد وہ رزلٹ بھی دے رہے ہیں،ہاں کہیں کہیں سفارشی افسر بھی پوسٹ ہو نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر وہ سسٹم میں ایکسپوز ہو جاتے ہیں، جیسے نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ،اسی طرح سفارش سے لگنے کے بعد بھی معیار ،اہلیت اور محنت ضروری ہوتی ہے ، کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں لاہور میں ریونیو کی سیٹ پر ایک سفارشی لگا ہوا ہے ،وہ کسی اور کی کیا سنے گا وہ تو اپنے باس کا فون بھی نہیں سنتا ، دفتر بھی مرضی سے آتا ہے.
اس قسم کے سفارشی افسروں کی وجہ سے سسٹم اور عوام دونوں کا نقصان ہوتا ہے ،مگر ان صاحب کی سفارش اتنی تگڑی ہے کہ اس کو چھیڑنے کی کسی میں ہمت ہی نہیں ہے ، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اپنے عہدے پر اگلے ماہ تین سال پورے کر رہے ہیں ، سو ہم کہ سکتے ہیں کہ انکی اپنے کام پر گرپ بہت مضبوط ہے،ایک طویل عرصے بعد کوئی چیف سیکرٹری پنجاب میں تین سال پورے کر رہا ہے،یہ اچھی بات ہے ، اس سے انتظامی سسٹم میں بہتری نظر آ رہی ہے،انکے لگائے ہوئے افسر بھی رزلٹ دے رہے ہیں، پنجاب میں اہم پوسٹوں پر تعینات اکثر افسر بھی ،،کسی پوسٹ کے لئے متعین عرصہ ،، یعنی ٹینیور اچھے طریقے سے پورا کر رہے ہیںیا پورا کر چکے ہیں مگر بعض اچھے افسران کو بار بار بدلا بھی گیا ہے ، جو سمجھ سے بالا تر ہے .
اگر پچھلے چند برسوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک نام بار بار مختلف محکموں کے ساتھ جڑا نظر آتا ہے، احسان بھٹہ، یہ نام اب محض ایک افسر کا نہیں رہا بلکہ ایک انتظامی “فائر فائٹر” کی علامت بنتا جا رہا ہے، جہاں حکومت کو کمزوری، بدانتظامی، سیاسی دباؤ یا ادارہ جاتی انتشار دکھائی دے وہاں حل کے طور پر ایک ہی نسخہ آزمایا جاتا ہے،یعنی احسان بھٹہ کو وہاں تعینات کر دیا جاتا ہے ،ابھی چند ماہ پہلے ہی انہیں سیکرٹری سیاحت پنجاب بنایا گیا تھا، اب ہفتہ پہلے انہیں سیکرٹری اوقاف لگا دیا گیا ہے، یہ کوئی معمولی تبادلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی کہانی کا تازہ باب ہے جو گزشتہ تین چار برسوں میں دس سے بارہ بار بار دہرائی جا چکی ہے، تین چار سالوں میں ایک افسر کے اتنے زیادہ تبادلےشائد پنجاب میں ایک ریکارڈ ہو ، سوال صرف یہ نہیں کہ احسان بھٹہ بار بار کیوں بدلے جا رہے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں صرف ان ہی مقامات پر یاد آتے ہیں جہاں حکومت کو خود اپنی انتظامی ناکامی کا اندیشہ ہوتا ہے؟ ان کے لئے “سیویئر سیکرٹری” کا غیر اعلانیہ عہدہ بھی پنجاب کے سرکاری حلقوں میں ایک غیر تحریری اصطلاح خاموشی سے رائج ہو چکی ہے، یعنی وہ افسر جسے سزا نہیں دی جاتی، بلکہ سزا یافتہ محکمے میں بھیجا جاتا ہے، یہ بظاہر اعزاز ہے ، مگر عملی طور پر سب سے مشکل ذمہ داری ہوتی ہے، ایسے محکمے جہاں فائلیں رکی ہوں، ریونیو متاثر ہو، سیاسی مداخلت حد سے تجاوز کر چکی ہو،یا عوامی شکایات خطرناک حد تک بڑھ چکی ہوں وہاں عام طور پر احسان بھٹہ کو تعینات کر دیا جاتا ہے۔
یہ اتفاق نہیں ہو سکتا کہ جس محکمے میں وہ جاتے ہیں، وہاں ابتدائی چند ماہ میں نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور فائل موومنٹ میں واضح فرق محسوس کیا جاتا ہے، وہ محکمے کو “چمکاتے” ہیں ، میڈیا ان کی کارکردگی کو سراہتا ہے، وہ خاموشی سے نظام کو پٹری پر لاتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ وہ اکثر سیٹ ہونے سے پہلے ہی ہٹا دیے جاتے ہیں، کیونکہ جس مقصد کے لیے وہ لائے جاتے ہیں، وہ پورا ہو چکا ہوتا ہے،اب سیاحت سے اوقاف تک مختلف انتظامی دنیا ہے ، سیاحت جیسے محکمے کا مزاج، تقاضے اور چیلنجز سیکرٹری اوقاف سے یکسر مختلف ہیں، ایک طرف ٹورازم، سرمایہ کاری، بین الاقوامی برانڈنگ اور نجی شعبے سے تعاون، دوسری طرف اوقاف، مذہبی ادارے، تاریخی مزارات، حساس مالی معاملات اور روحانی وابستگیاں،عام طور پر افسران کو برسوں لگ جاتے ہیں ایک محکمے کی نفسیات سمجھنے میں، مگر احسان بھٹہ کو شاید کبھی یہ سہولت دی ہی نہیں گئی۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ انہیں کبھی ایسے محکمے میں طویل مدت نہیں دی گئی جہاں پالیسی لیول پر دور رس اصلاحات کی جا سکیں، وہ آتے ہیں، انتظامی بگاڑ کو سنبھالتے ہیں، اور پھر اگلے “مسئلہ زدہ” محکمے میں منتقل کر دیے جاتے ہیں،اس سے یوں لگتا ہے جیسے حکومت کے پاس مسائل کا مستقل حل نہیں، صرف وقتی مرہم ہے اور وہ مرہم احسان بھٹہ ہیں،اسے حکومت کی کمزوری یا افسر کی مضبوطی کہیں؟ اگر احسان بھٹہ واقعی ناکام افسر ہوتے، تو کیا انہیں اتنی پوسٹنگز بار بار دی جاتیں؟ اور اگر وہ کامیاب ہیں تو انہیں بار بار ہٹایا کیوں جاتا ہے؟ حقیقت شاید ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے، اصل مسئلہ پنجاب میں ادارہ جاتی تسلسل کا فقدان ہے؟ حکومتیں افسران کو پالیسی کے لیے نہیں، بحران کے لیے استعمال کر رہی ہیں، بحران ٹلا تو افسر بدل دیا گیا، یہ طرزِ عمل نہ صرف افسر بیوروکریسی کو غیر یقینی میں مبتلا کرتا ہے بلکہ ادارے کو بھی مستقل بہتری سے محروم رکھتا ہے، ایک افسر، کئی محکمے مگر کہانی ایک ہی ، احسان بھٹہ کے کیریئر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ محکمے تبدیل کرتے گئے، مگر ان پر لگنے والی ذمہ داری کی نوعیت نہیں بدلی ، ہر جگہ “خراب صورت حال سنبھالنا” ان کا بنیادی کام رہا، یہ ایک طرح کا انتظامی استحصال بھی ہے، جس کا اعتراف کبھی کھل کر نہیں کیا جاتا، بیوروکریسی میں ایسے افسر کم ہوتے ہیں جو بغیر شور شرابے کے فیصلے کریں، غیر ضروری سیاسی مداخلت کو برداشت بھی کریں اور نظام چلتا بھی رکھیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو عوامی ہیرو بن پاتے ہیں نہ ہی اندرونی لابیز کا مستقل حصہ، ایسے افسر اکثر “فوری حل” بن کر رہ جاتے ہیں۔
احسان بھٹہ کے لئے اب اوقاف ایک نیا چیلنج ہے ، اوقاف محض ایک سرکاری محکمہ نہیں، یہ مذہب، تاریخ، سیاست اور معیشت کا سنگم ہے، یہاں فیصلے صرف فائلوں پر نہیں ہوتے، دلوں اور عقیدتوں سے بھی جڑے ہوتے ہیں، ایسے میں نظم و ضبط قائم رکھنا ایک فنی نہیں بلکہ فکری چیلنج بھی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ کیا انہیں اس محکمے میں بھی محض “رسکیو آپریشن” کے لیے لایا گیا ہے، یا اس بار حکومت واقعی کسی افسر کو وقت اور اختیار دینے کا ارادہ رکھتی ہے؟ ماضی کا تجربہ خوش آئند نہیں، مگر امید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ کسی اچھے افسر کی بار بار تبدیلی دراصل ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ پورے نظام کی عکاسی ہے، یہ اس طرزِ حکمرانی کا عکس ہے جہاں ادارے افراد پر چلتے ہیں اور افراد اداروں پر قربان ہو جاتے ہیں، جب تک کسی افسر کو کام کا پورا موقع اور اچھا عرصہ تعیناتی نہ ملے اسکی صلاحیتیں کس طرح سامنے آ سکتی ہیں؟

