اسرائیل اپنی احمقانہ اور سفاکانہ جارحیت پر پچھتائے گا:ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

اسرائیل اپنی احمقانہ اور سفاکانہ جارحیت پر پچھتائے گا:ایرانی صدر کا دوٹوک اعلانتہران(ایجینسیاں)ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسرائیلی حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ “اسرائیل اپنی احمقانہ اور سفاکانہ جارحیت پر ضرور پچھتائے گا۔ ہم اسے بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ متحد رہیں اور ایسی افواہوں یا جھوٹی خبروں پر یقین نہ کریں جن کا مقصد ایرانی قوم کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔

ایرانی سرکاری و نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 78 افراد شہید، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ، ایرانی آرمی چیف، 6 ایٹمی سائنسدان اور 6 عام شہری شامل ہیں، جبکہ 329 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ”اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے اندھیرے میں حملہ کر کے اپنی تلخ اور تکلیف دہ تقدیر خود ہی رقم کر دی ہے۔ صہیونی ریاست کی یہ بزدلانہ کارروائی اس کے زوال کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے۔”

اسرائیلی جارحیت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے.عراق نے اپنی فضائی حدود کو بند کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے خطے میں کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں نے تہران سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اگر عالمی برادری نے فوری سفارتی اقدامات نہ کیے تو یہ کشیدگی عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے۔

ایرانی قیادت نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، اور ایک ظالم ریاست کو بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلنے سے روکا جائے۔ایران کے وزیر خارجہ نے عالمی رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیے ہیں اور تہران میں اقوام متحدہ کے نمائندے کو طلب کر کے باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں