واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی صورتحال سے متعلق امریکہ کی تازہ ترین جنگ بندی تجویز کو باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد یہ تجویز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران کہا”میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی اس نئی تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں تیار کی گئی تھی۔”
ترجمان کے مطابق، اسرائیلی منظوری کے بعد تجویز کو باقاعدہ طور پر حماس کو پیش کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ”میری معلومات کے مطابق، حماس کی جانب سے ابھی تک باضابطہ منظوری موصول نہیں ہوئی۔ “وائٹ ہاؤس نے امید ظاہر کی کہ اس نئی تجویز کی منظوری سے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہو سکے گی بلکہ یرغمالیوں کی واپسی کا عمل بھی فوری طور پر شروع ہو جائے گا۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل حماس نے امریکی جنگ بندی منصوبے کی حمایت کا عندیہ دیا تھا، مگر اسرائیلی حکام نے اس منصوبے کو “غیر قابل قبول” قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔تاہم اب اسرائیل کی جانب سے سرکاری منظوری اس بحران کے حل کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

