تہران/یروشلم (ایجنسیاں)اسرائیل کی جانب سے ایران پر جمعے کی رات ایک بڑے پیمانے پر فضائی حملے میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور ممتاز جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کارروائی نے نہ صرف ایران کے فوجی اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو شدید کشیدگی میں دھکیل دیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس حملے میں ایران کے مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی، اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوگئے ہیں۔

علاوہ ازیں، جوہری سائنسدانوں فریدون عباسی، محمد مہدی طہرانچی، عبدالحمید منوچہر، احمدرضا ذوالفقاری، امیرحسین فقیہی اور مطلب لیزادہ کی شہادت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی شمخانی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حملے کی تفصیلات:
اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق حملے میں 200 سے زائد لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔100 سے زیادہ عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں نطنز یورینیم افزودگی تنصیب اور پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز شامل ہیں۔
موساد نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے سے قبل اس کے کمانڈوز نے ایران کے اندر خفیہ زمینی کارروائیاں انجام دیں اور میزائل دفاعی نظام کے قریب ہدفی اسلحہ نصب کیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں 5 عام شہری شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔
ایرانی ردِ عمل:
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں کہا کہ”صہیونی حکومت نے اپنے خبیث ہاتھوں سے ایرانی سرزمین پر سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اب اس کا انجام نہایت تلخ اور تکلیف دہ ہوگا۔”
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیکرچی نے کہا کہ”اسرائیلی جارحیت کا جواب سخت، فیصلہ کن اور ناقابلِ تصور ہوگا۔ یہ حملہ امریکا کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔”
قم کی مشہور مسجد جمکران پر سرخ پرچم لہرایا گیا ہے جو بدلے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسرائیل، عراق، اردن اور ایران کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔ایران میں امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔امریٹس ایئرلائن نے ایران، عراق، شام اور اردن کیلئےفضائی آپریشن معطل کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ردِ عمل:
عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے نطنز جوہری تنصیب پر حملے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم ایجنسی کے مطابق تابکاری کی سطح میں کسی خطرناک اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور چین نے فریقین سے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
نئی عسکری قیادت:
ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای نے فوری طور پر فوجی قیادت میں تبدیلیاں کی ہیں.
میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور کو پاسداران انقلاب کا نیا کمانڈر بنایا گیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل علی شادمانی کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کا ایک نیا اور خطرناک موڑ ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی رسد، اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس کشیدگی کو کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے کیلئےفوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات کرنے ہونگے۔

