اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت متعدد ہلاک

دوحہ( رائٹرز/الجزیرہ/اے ایف پی) — قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سینئر رہنما خلیل الحیہ محفوظ رہے، لیکن ان کے بیٹے ہمام اور ایک قریبی معاون جاں بحق ہو گئے۔ تین باڈی گارڈز سے رابطہ بھی منقطع ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے کا ہدف خلیل الحیہ اور دیگر حماس رہنما تھے۔ اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے کی گئی۔

الجزیرہ کے مطابق، حملے کے وقت حماس کے مذاکرات کار امریکا کی پیش کردہ نئی جنگ بندی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ حماس رہنما سہیل الہندی نے بتایا کہ یہ کوشش حماس اور قطر کے خلاف ہی نہیں بلکہ تمام عربوں اور مسلمانوں پر جارحیت ہے۔

“قطر کا ردِعمل”
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ یہ کارروائی ایک رہائشی عمارت پر کی گئی اور یہ اقدام قطر کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قطر میں شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی کیلئےسنگین خطرہ ہے۔

“امریکی موقف”
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ فی الحال دوحہ حملے پر تبصرہ نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق، یہ کہنا کہ امریکی صدر نے اس کارروائی کی منظوری دی، محض قیاس آرائی ہے۔

“ایران اور عرب ممالک کا ردِعمل”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسمٰعیل بقائی نے اس حملے کو قطر کی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی برادری کی خاموشی سب کے لیے خطرہ ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر نے کہا کہ “ہم قطر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسرائیل کے اس غدارانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔”

“اسرائیلی مہم کا دائرہ کار”
الجزیرہ کے مطابق، پچھلے ایک ماہ میں اسرائیل نے چھ عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ غزہ پر بمباری کے علاوہ اسرائیل نے لبنان، شام، یمن اور حالیہ طور پر تیونس میں بھی حملے کیے، جہاں ایک ڈرون نے غزہ جانے والے امدادی جہاز کو نشانہ بنایا۔

اپنا تبصرہ لکھیں