اسرائیل کے ایران پر تازہ فضائی حملے، زیر زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران/خرم آباد (اے ایف پی/الجزیرہ/تسنیم نیوز) —اسرائیل نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں.ایرانی دارالحکومت تہران سمیت کم از کم چھ صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ایران کے شہر خرم آباد میں زیر زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین کے مطابق یہ تنصیبات زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائلوں کی ذخیرہ گاہیں تھیں اور ان میں متعدد لانچ شافٹوں کیلئےسرنگیں بھی موجود تھیں۔ ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کے درجنوں دیگر مقامات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ کی صبح سے جاری فضائی کارروائیوں میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری سمیت ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے 20 سے زائد کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو ملک کے مختلف حصوں میں متحرک کیا گیا ہے جن میں ہرمزگان، کرمانشاہ، لرستان، قم، مشرقی آذربائیجان اور خوزستان شامل ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تبریز اور اصفہان میں بھی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر میزائل تنصیبات اور اسلحہ کے مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔ ایران میں مختلف شہروں سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیلیں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں