اسرائیلی غیر قانونی بلوں کی مذمت — پاکستان سمیت 15 اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

ریاض / قاہرہ / اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)پاکستان سمیت 15 اسلامی ممالک اور 2 اہم تنظمیوں نے اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی جانب سے منظور کیے گئے دو غیر قانونی بلوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسرائیلی پارلیمان کے منظور کردہ یہ دونوں مسودہ قوانین نام نہاد “اسرائیلی خودمختاری” نافذ کرنے اور غیر قانونی نوآبادیاتی بستیاں برقرار رکھنے کے مقصد سے پیش کیے گئے، جو قوانین کے منافی ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے حالیہ 22 اکتوبر کو مشاورتی رائے میں قرار دیا ہے کہ اسرائیلی قبضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی ہے، اور بستیوں کی تعمیر یا انضمام سے متعلق تمام اقدامات باطل اور غیر مؤثر ہیں۔اسلامی ممالک نے کہا کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی خودمختاری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اسرائیلی قانون سازی بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مزید کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے آبادکاری اور انضمام کے اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد روکنے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی گئی، جبکہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی توثیق کی گئی۔

مشترکہ اعلامیہ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی غیر قانونی پالیسیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئےفوری کردار ادا کرے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ 1967ء کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

یہ مشترکہ بیان پاکستان، سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا، ترکیہ، جبوتی، عمان، گیمبیا، فلسطین، کویت، لیبیا، ملائیشیا، مصر، نائیجیریا، عرب لیگ، اور تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں