صنعا / یروشلم (رائٹرز)حوثیوں کے زیرانتظام میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے وزیراعظم احمد غالب الرحاوی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔ دارالحکومت صنعا میں ہونے والے اس حملے میں کئی وزرا اور رہنما بھی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے احمد غالب الرحاوی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے باوجود حوثی عوام اور قیادت مزاحمت جاری رکھے گی۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جمعرات 28 اگست کو کیا گیا یہ حملہ ایک ’’پیچیدہ آپریشن‘‘ تھا، جس کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ گروہ کے اعلیٰ رہنما، وزیر دفاع اور دیگر اہم شخصیات تھیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائی اس وقت کی گئی جب حوثی قیادت ایک تقریب میں گروپ لیڈر عبدالملک الحوثی کی ریکارڈ شدہ تقریر دیکھنے کے لیے اکٹھی تھی۔
احمد غالب الرحاوی تقریباً ایک سال قبل وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے، تاہم حکومت کے عملی سربراہ ان کے نائب محمد مفتاح رہے ہیں، جنہیں اب وزیراعظم کے فرائض سنبھالنے کیلئےنامزد کر دیا گیا ہے۔
حوثی وزیر دفاع نے وزیراعظم کی شہادت کی تصدیق کے بعد بیان میں کہا کہ ’’ہم اسرائیل کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ ادھر مہدی المشاط نے واضح کیا کہ ’’حوثی عوام فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مؤقف پر قائم ہیں اور مسلح افواج کی صلاحیتیں بڑھا کر ہر چیلنج اور خطرے کا مقابلہ کیا جائے گا‘‘۔
واضح رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں فلسطینی عوام سے یکجہتی کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیلی مفادات پر حملے کیے اور میزائل داغے تھے، جنہیں اسرائیل نے زیادہ تر فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے صنعا اور الحدیدہ سمیت یمن کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

