اسرائیلی فوج کا غزہ کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم

غزہ(رائٹرز) — اسرائیلی فوج نے نئی زمینی کارروائی سے قبل غزہ شہر کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خان یونس کے علاقے المواسی منتقل ہوجائیں، جسے ’انسانی ہمدردی کا زون‘ قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ کے شہریوں کو خبردار کیا کہ “یہ موقع ہے، وہاں سے نکل جائیں”، انخلا کے اعلان نے شہر میں خوف اور افراتفری پھیلا دی۔

10 لاکھ آبادی والے شہر غزہ کے باسی کئی ہفتوں سے اس کارروائی کے خدشے میں تھے۔ اسرائیلی فوج نے منگل کو فضا سے ہزاروں پمفلٹس گرائے جن میں شہریوں کو جنوب کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی۔

55 سالہ ام محمد نے کہا، “میں نے گزشتہ ہفتے کی بمباری کے باوجود نکلنے سے گریز کیا، لیکن اب بیٹی کے پاس جا رہی ہوں۔” تاہم متعدد شہریوں نے کہا کہ “کہیں بھی محفوظ جگہ موجود نہیں۔”

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر کے گرد جمع ہوکر زمینی پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو فوج اپنی کارروائی کو “شدید طوفان” میں بدل دے گی۔

قطر نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ امریکا کی تازہ ترین جنگ بندی و یرغمالیوں کے معاہدے پر مثبت ردعمل دیں۔ حماس نے کہا کہ وہ تجاویز پر ثالثوں کے ساتھ غور کر رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار کے مطابق اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی ہے، تاہم حماس کا موقف ہے کہ وہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہی ہتھیار ڈالے گی۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے سرحد پار حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے، اسرائیل کے مطابق اب بھی 48 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں جن میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، علاقے کا بڑا حصہ کھنڈرات میں بدل گیا ہے۔

کئی یورپی ممالک نے اسرائیلی بمباری کے خلاف احتجاجاً اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اسرائیل اس کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں