اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، 31 نمازی شہید، 169 زخمی

اسلام آباد(نمائندگان+ایجنسیاں)اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 31 نمازی شہید اور 169 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے دھماکے سے قبل فائرنگ بھی کی۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔ دھماکے کے بعد پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

پمز ذرائع کے مطابق پمز اسپتال میں 105 زخمی اور 28 میتیں لائی گئیں، جن میں سے 27 میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ اسپتال حکام کے مطابق مجموعی طور پر 106 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی لائے گئے جن میں سے 2 جاں بحق ہو گئے، فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 زخمی، بینظیر اسپتال میں 2 جبکہ سی ڈی اے اسپتال میں ایک زخمی لایا گیا۔ اسلام آباد کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ پولی کلینک اسپتال میں خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور تحقیقات کے بعد ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور ملک میں شرپسندی و بے امنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو اسلام آباد انتظامیہ کی مکمل معاونت اور زخمیوں کو راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں بہترین علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی واقعے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں خودکش حملہ انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر نے کہا کہ انسانیت، دین اور معاشرتی اقدار پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ برطانوی ہائی کمشنر اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی نمازیوں اور ان کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔