اسلام آباد (بیورو رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ریاست اور اداروں پر بدنما داغ ہے، ہم پر آئینی طریقے سے کوئی قابو نہیں پا سکتا، چیلنج کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت کو سیاسی طریقے سے گرا کر دکھایا جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں سلمان اکرم راجا، بیرسٹر گوہر، شبلی فراز اور جنید اکبر کے ہمراہ کہا کہ حکومت کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے، وہ جب چاہیں حکومت چھوڑنے یا گرانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم آئینی طریقے سے ہماری حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر حملہ ہے، اور جب تک یہ ترمیم واپس نہیں لی جاتی، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ پیکا ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے وہ قوم کو غلام بنانے کی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کبھی حکومت چھوڑنے کا نہیں کہا، بلکہ بجٹ کے بعد ملاقات سے ثابت ہوا کہ وہ حکومت گرانے کے حق میں نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم پر غیر آئینی اقدامات نہ کیے جائیں، اگر آئینی طریقے سے حکومت گرائی گئی تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 8 فروری پاکستان کی جمہوری تاریخ کا یادگار دن تھا، عوام نے اپنا فیصلہ سنایا، لیکن مخصوص نشستوں کے فیصلے سے عوام کی آواز دبائی گئی۔ ہم عمران خان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ جنگ عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ باہمی اختلافات اپنی جگہ مگر ہم عمران خان کی قیادت پر متحد ہیں، ان کی ہدایت پر ہر تحریک میں شریک ہوں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا تن من دھن عمران خان کے لیے وقف ہے، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر وہ بامعنی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ہر قیمت پر بچایا جائے گا اور عدم اعتماد کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ عمران خان اور دیگر قیدی رہنماؤں کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ مخصوص نشستوں کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے آئینی و قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔

