برامپٹن (نامہ نگار) — سٹی آف برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے اسٹیلینٹس کمپنی کی جانب سے برامپٹن اسمبلی پلانٹ میں جیپ کمپاس کی پیداوار ختم کرنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
میئر پیٹرک براؤن نے اپنے بیان میں کہا کہ “اسٹیلینٹس کا یہ فیصلہ برامپٹن پلانٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ازسرِ نو تیار کرنے کے اس کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ اس اعلان نے پلانٹ کے تین ہزار ملازمین اور ان کے خاندانوں کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ برامپٹن طویل عرصے سے کینیڈا کی سب سے ہنر مند اور پیداواری آٹوموٹو افرادی قوت کا مرکز رہا ہے، جہاں بننے والی اعلیٰ معیار کی گاڑیوں نے اسٹیلینٹس کو عالمی سطح پر ممتاز بنایا۔ “یہ اعلان اُن ہزاروں تربیت یافتہ، وفادار اور محنتی کارکنوں کیلئےمایوس کن ہے جنہوں نے اس صنعت کیلئے زندگی وقف کر دی،”۔
میئر براؤن نے مزید کہا کہ وہ یونین یونیفور (Unifor) اور اس کے ارکان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو ملازمتوں کے تحفظ اور کینیڈین کارکنوں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ یہ خبر شمالی امریکا کی آٹوموٹو صنعت کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق، “جب اسٹیلینٹس اور دیگر کمپنیاں امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، تو خطرہ ہے کہ تجارتی عدم توازن، نئے ٹیرف ڈھانچے اور امریکی فیکٹریوں کے حق میں دیے جانے والے ترغیبی پروگرام کینیڈین مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔”
میئر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک مربوط قومی حکمتِ عملی تشکیل دے جس میں مضبوط وفاقی معاونت، منصفانہ تجارتی اقدامات اور ایسے اقدامات شامل ہوں جو آٹومیکرز کو کینیڈا میں طویل مدتی پیداوار کیلئے راغب کریں۔
اختتام پر میئر براؤن نے کہا کہ “سٹی آف برامپٹن اپنے مقامی کارکنوں، یونیفور، اور صوبائی و وفاقی شراکت داروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے گا تاکہ نئی سرمایہ کاری اور آٹوموٹو صنعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئےواضح منصوبہ تشکیل دیا جا سکے۔”

