میڈرڈ (اے ایف پی) اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو کھلی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کے ایک جامع پیکیج کا اعلان کر دیا۔ لا مونکلوآ (وزیراعظم ہاؤس) سے قوم کے نام خطاب میں سانچیز نے کہا کہ اسپین انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔
وزیراعظم سانچیز نے کہا: “یہ دفاع نہیں، یہ ایک پوری قوم کو مٹانے کی کوشش ہے۔ اب تک 63 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، ایک لاکھ 59 ہزار زخمی ہیں، ڈھائی لاکھ افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں نصف بچے شامل ہیں۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ اسپین فوری طور پر ایک ریئل ڈیکریٹو لا کے ذریعے اسرائیل پر اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسپین کی بندرگاہیں ایسے جہازوں کیلئےبند کر دی جائیں گی جو اسرائیلی فوج کیلئے ایندھن لے جا رہے ہوں، اور ایسے تمام طیاروں کو فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اسرائیل کو دفاعی سازوسامان پہنچا رہے ہوں۔
اعلان کردہ پیکیج میں ذاتی اور تجارتی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ جنگی جرائم اور نسل کشی میں شریک افراد کو اسپین میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ اور مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ ان بستیوں میں رہائش پذیر ہسپانوی شہریوں کیلئےقونصلر سہولتوں کو محدود کر دیا جائے گا۔
وزیراعظم سانچیز نے کہا کہ اسپین فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون کو بڑھائے گا، یورپی یونین کے رفح بارڈر مشن میں اپنی شمولیت کو وسعت دے گا اور اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA کیلئےاضافی فنڈز فراہم کرے گا۔ غزہ کیلئے انسانی ہمدردی کی امداد میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
اس اعلان پر اسرائیل نے سخت ردعمل دیا اور اسپین کی حکومت کو “یہودی مخالف اور کرپٹ” قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سعار نے کہا کہ اسپین کی نائب وزیراعظم یولاندا دیاث اور وزیرِ اطفال و نوجوانان سیرا ریگو کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یولاندا دیاث نے اسرائیلی فیصلے پر کہا: “یہ ہمارے لئےاعزاز کی بات ہے کہ ایک نسل کشی کرنے والا ملک ہمیں داخلے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے، چاہے مسٹر نیتن یاہو کو یہ پسند ہو یا نہ ہو۔”
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی یونین کے کسی بڑے رکن ملک نے اسرائیل کیخلاف اس قدر سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسپین کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ اس سے اسرائیل اور اسپین کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔

