اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 600 فیصد سے زائد اضافہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 600 فیصد سے زائد کا حیران کن اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو 13 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی جو کہ یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہو گی۔

تنخواہوں میں نمایاں اضافہ
اس سے قبل دونوں اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو 2 لاکھ 5 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی، جس کے مقابلے میں نیا پیکیج 600 فیصد سے زائد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تنخواہوں میں اس تاریخی اضافے نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران، مہنگائی اور مالیاتی کفایت شعاری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پس منظر
جنوری 2025 کے آغاز میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی نمایاں اضافے کی سفارشات دی تھیں۔ اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز کو ایک لاکھ 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، جسے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے ابتدا میں ارکانِ اسمبلی کی تنخواہ 10 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم اسپیکر ایاز صادق نے اسے مسترد کرتے ہوئے نسبتاً کم اضافہ تجویز کیا، جو بالآخر منظور ہوا۔

عوامی ردعمل
تنخواہوں میں اتنے بڑے اضافے پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران کا شکار ہیں، عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ “عوامی خدمت” کے دعوؤں سے متصادم ہے۔

ممکنہ اثرات
آئندہ بجٹ پر دباؤ،دیگر سرکاری اداروں میں بھی تنخواہوں میں اضافے کے مطالبات،اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے ممکنہ احتجاج

اپنا تبصرہ لکھیں