عوام ایشیاء کے ہوں یا ان کا تعلق یورپ اور امریکہ سے ہو یہ سب اپنی اپنی جگہ معصوم اور صدیوں سے استحصال کا شکار ہیں اور اکثر ممالک میں یہ خود ہی اپنے آپ کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔ہر دور میں خواہ وہ بادشاہت تھی یا جمہوریت ہے یہ اپنے اپنے تصور کے مطابق ناخدا تلاش کرتے ہیں اور پھر اسی کے ہاتھوں ڈوب کر ہلاک بھی ہو جاتے ہیں،ادوار بدلے، بادشاہت اور آمریت کے دور گئے،جمہوری ادوار آئے،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عوام کے لئے ہے،لیکن حقیقت بہت تلخ ہے کہ جمہوریت بھی دھوکا ثابت ہوئی اگر ایسا ہو اور جمہوری اصول کے مطابق عوام کی بات مانی جائے تو پھر غزہ میں نسل کشی نہ ہوتی،امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر کے ایران کو زیر کرنے کا معاون نہ بنتا کہ یورپ اور امریکہ کے عوام نے تو سختی کے باوجود باہر نکل کر اسرائیلی بربریت کی مذمت اور غزہ کے مظلوم عوام کی پُرزور حمایت کی لیکن اقتدار پر قابض اشرافیہ نے ان کی نہیں سنی، الٹا ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی۔امریکہ میں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے طلباء کو بھی معاف نہیں کیا اور ایسی ہی کچھ صورت حال برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی ہے۔البتہ فرانس کے صدر میکرون نے تھوڑی تبدیلی دکھائی اور غزہ میں جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
میں ریاست ِ مدینہ کے مختلف ادوار کو منہا کر کے یہ بھی عرض کر سکتا ہوں کہ مسلمان ممالک بھی طبقاتی نظام پر ہی عمل پیرا رہے ہیں اور ہر بادشاہی،آمریت کے دور میں بالادست طبقے ہی استحصالی کردار ادا کرتے ہیں اور عوام پستے چلے آ رہے ہیں۔میں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کمیونزم استحصال کے خلاف آیا تاہم اس نظام میں بھی آمریت ہی رہی اگرچہ شکل تبدیل ہو گئی، ہم بھولے عوام اب تک اشرافیہ کے پھندے اور سنہرے جال میں پھنسے ہوئے ہیں اور خود بھی دو حصوں ہی میں بٹ کر مثبت توقعات کا شکار رہتے ہیں، حالانکہ ہمارے ملک بلکہ برصغیر میں یہ ثابت ہو چکا کہ اشرافیہ کا تعلق خواہ حزبِ اختلاف سے ہو،ان کے مفادات سانجھے ہوتے ہیں اور وہ آپس میں ٹکراؤ کا جو تاثر دیتے ہیں وہ درحقیقت اپنے اپنے مفادات کے لئے ہوتا ہے،ورنہ یہ حضرات لڑنے بھڑنے کو الگ الگ اور کھانے پینے کو اکٹھے ہوتے ہیں،اب اگر اس کا اندازہ لگانا ہے تو حال ہی میں گندم کی درآمد اور چینی کی برآمد کے امور سے لگایا جا سکتا ہے۔
قارئین! ہم کتنے بھولے اور معصوم ہیں کہ بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جا رہے ہیں،لیکن اپنے حقوق کے لئے خود اکٹھے نہیں ہو پاتے، اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ اگر عوام بیدار ہوں بھی تو یہ اشرافیہ انہی میں سے دھڑے بنوا دیتی ہے اور پھر نظام کی تبدیلی بھول کر ہم عوام بھی اسی استحصالی نظام کے کل پرزے بن جاتے ہیں۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں گندم ضرورت سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود درآمد کی گئی اور یوں اس ”غریب سٹیٹ“ جی!ہاں ”غریب سٹیٹ“ کہ یہاں سٹیٹ غریب ہے۔ مقروض ہے لیکن اشرافیہ امیر سے امیر تر ہے اور یہ بُعد بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،کے دس کھرب روپے لوٹ لئے گئے،اب حالت یہ ہے کہ لوٹ مار سے انکار نہیں کیا جا رہا،البتہ تحریک انصاف کی طرف سے مسلم لیگ(ن) اور پنجاب حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے اور مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت کا الزام اور وضاحت یہ ہے کہ یہ جرم تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ہوا ہے۔اب اگر ذرا غور کر لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ریاست اور عوام کے دس کھرب تو لوٹ لئے گئے الزام جس کے خلاف بھی ہے یا ثابت ہو جائے، ہر دو کا تعلق اشرافیہ سے ہے اور اسی لئے یقین ہے کہ یہ بھی ایشو کے طور پر زیر بحث رہ کر دم توڑ دے گا، ایسا ہی کچھ چینی کے ساتھ ہوا،جس کی برآمد اور درآمد کا الزام اب شوگر ملز مالکان سے ہٹا کر شوگر ڈیلرز پر لگایا جا رہا ہے،حالانکہ جب مطالبہ کیا اور زرِمبادلہ کمانے،ملک میں لانے کا سنہرا خواب دیکھایا جا رہا تھا تو وزیراعظم کی ناں کو ہاں میں تبدیل کرانے والے اشرافیہ کے یہی مالکان تھے،جو150 روپے فی کلو چینی کا وعدہ کر کے ملک کے اندر مزید منافع کما رہے اور یہاں چینی کے نرخ190 روپے فی کلو ہو گئے اور اب دنیا گول ہے کے مصداق پھر سے پانچ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی اور یوں سانپ، سیڑھی کا کھیل جاری ہے، حالانکہ ملک اتنا مقروض ہے کہ سود کی قسط بھی نئے قرضے سے ادا ہوتی ہے۔ معذرت خواہ ہوں کہ لکھنا کسی اور موضوع پر تھا اور قلم ادھر رواں ہو گیا جو بڑی حقیقت ہے کہ دوسرے موضوع کاتعلق بھی اشرافیہ اور عوام سے ہے۔
ہمارے ملک میں جو نظام ہے وہ بھی طبقاتی بلکہ دو طبقاتی ہے کہ امیر، امیر تر اور غریب،غریب تر ہو رہے ہیں اور اس نظام میں بھی دو بڑے فریق ہیں اور ہر ایک کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے ہے۔ان کی آپس میں لڑائی یا کشمکش اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لئے ہے کہ حزبِ اختلاف والوں کا دور بھی ہم غرباء کے لئے استحصالی تھا اور اب حالیہ حزبِ اقتدار پر بھی یہی الزام ہے۔ فریقین سینگ لڑا رہے اور اجڑ بے چاری گھاس رہی ہے، ہم ہیں کہ سوشل میڈیا کے دیوانے اور ہمارے میڈیا والے بھائی روز پنچائت لگا لیتے ہیں۔اب تو صورتحال یہ ہے کہ متعدد الیکٹرونک میڈیا والوں کو مبصرین اور تجزیہ کار نہیں ملتے،دوسری طرف حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف نے اپنی اپنی جماعت کے نمائندے نامزد کئے ہوئے ہیں جو الیکٹرونک چینلز پر نظر آتے ہیں اور ان اینکر حضرات کو انہی کے ساتھ گذارہ کرنا ہوتا ہے اور ٹائم ایڈجسٹ کر کے یہ نمائندگی ہوتی ہے اور ہر جگہ ایک ہی نوعیت کی بات ہوتی ہے،جس میں عوام کا نام بار بار لیا جاتا ہے لیکن ان کے حقیقی مفاد کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔
میڈیا (سوشل خصوصی) پر ان دِنوں بھی تحریک، اور مذاکرات، مذاکرات کا کھیل جاری ہے۔ ابھی فضاء میں آصف علی زرداری کی کرسی گھسیٹنے کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ اب قیدی نمبر804 کے دونوں صاحبزادوں کی آمد کو موضوع بنا لیا گیا ہے۔یوں عوامی توجہ گندم، چینی، بجلی کی بندش اور بارش جیسے مسائل سے ہی نہیں غزہ سے بھی ہٹا کر تحریک کا شور شروع کر دیا گیا،اصل میں سالانہ بجٹ نے سفید پوش (اب غریب تر) طبقے کی جو کمر مزید توڑی ہے اس سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ورنہ یہ اعتراف کرنے کے بعد کہ ٹیکس تو تنخواہ دار طبقے ہی نے دیا اور اشرافیہ ٹیکس چور ہے۔ رعایت پھر بھی اسی اشرافیہ کو دی گئی اور بوجھ تنخواہ دار طبقے پر منتقل کر دیا گیا اور پھر اسی میں ایک اچھوت طبقہ بنا دیا گیا جسے نان فائیلر کا نام دیا گیا،ان کے لئے بہت سے کام شجر ممنوعہ ہیں۔ پھر بڑے بڑے دلچسپ ٹیکس عائد کیے گئے ہیں،کیسی مزیدار بات ہے کہ آپ بنک میں اپنی رقم جمع کرائیں اور اسی میں سے پیسے نکلوائیں تو آپ پر ٹیکس عائد ہو گا۔
قارئین!”نکی جئی جان تے دُکھ لکھ تے کروڑ وے“ والی بات ہے۔عمران کے صاحبزادے آتے ہیں تو آنے دیں،وہ جس ملک کے شہری ہیں وہاں قانون کی حکمرانی کا بہت شہرہ ہے،اس لئے یہ آئیں،بسم اللہ ان کے باپ کا وطن ہے،باپ کی خاطر تحریک چلائیں تو بھی بسم اللہ،ان کو کون روکے گا۔قانون بہرحال قانون اور سب کے لئے ہے تاہم غور طلب بات ہے کہ تحریک کی قیادت علیمہ خان اور عمران خان کے صاحبزادے کریں گے۔ لیڈر حضرات ان کی قیادت میں باہر نکلیں گے، سبحان اللہ! ہم نے اس ملک کی درجنوں تحریکوں کی کوریج کی،اول سے آخر تک کی،لیکن ایسا حال کبھی نہ دیکھا،اب انتظار کرتے ہیں، پانچ اگست کا جس کا اشارہ یا حوالہ دیا گیا ہے۔

